تازہ ترین
Loading...

Saturday, October 31, 2020

لفظوں کے متروک ہونے کی کہانی

میں نے کہیں پڑھا ہے کہ’’ جب کسی زبان کا کوئی لفظ مرتا ہے، تو اس کے ساتھ اس سے جڑی ہوئی پوری تہذیب فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔‘‘ لیکن میرے خیال میں ترتیب اس کے برعکس ہوتی ہے۔ پہلے ایک تہذیب، ایک ثقافت، ایک رسم، ایک رواج یا ایک خیال مرتا ہے، اس کے بعد ہی اس سے وابستہ لفظ متروک ہوکر ماضی کا حصہ بنتا ہے۔ پرانے زمانے کی جو چیزیں اب باقی نہیں رہیں، ان کا ذکر ان لوگوں کی زبان سے بھی شاذ و نادر ہی ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے کسی دور میں اس چیز کو دیکھ یا برت چکے ہوتے ہیں۔ نئی نسل تو اس چیز کے نام سے بھی واقف نہیں ہوتی۔چنانچہ اسے بیان کرنے والا لفظ بھی تحریر و تقریر سے باہر ہوکر بس لغات میں چُھپ کر رہ جاتا ہے۔

مثال کے طور پر مکان سے وابستہ چیزوں اور ان کے ناموں کو ہی لے لیجیے، ڈیوڑھی، دہلیز، صحن، آنگن یا انگنائی، دالان، برآمدہ، بیٹھک، دیوان خانہ، غلام گردش، راہداری، زنان خانہ، محل سرا ، شہ نشین، پس نشین، توشہ خانہ، بالا خانہ، کوٹھا، کوٹھری، کولکی، چھجہ، مچان، طاق، کارنس، آتش دان، روشن دان وغیرہ میں سے اب کتنی چیزیں باقی ہیں اور جو باقی ہیں ان میں سے کتنی اپنے پرانے ناموں سے جانی جاتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ہر گھر میں ایک آنگن یا صحن ہوتا تھا اور دالان بھی اور اپنی چھت بھی۔ اکثر مکانوں میں مچان بھی ہوتے تھے جن پر گھر کا بے مصرف سامان رکھ کر لوگ بھول جایا کرتے تھے۔ طاق بھی ہر مکان میں ہوا کرتے تھے جن میں بجلی کی آمد سے پہلے چراغ روشن کرکے رکھے جاتے تھے یا کتابیں اور دیگر چیزیں رکھ دی جاتی تھیں۔ بڑے مکانوں میں آتش دان اور کارنس بھی ہوتے تھے۔ پھر بڑے بڑے روشن دان بھی ہوتے تھے جن میں چڑیاں اکثر گھونسلے بنالیا کرتی تھیں۔ اس طرح اکثر مکانوں میں انسانوں کے ساتھ ساتھ چڑیاں، کبوتر، گلہریاں اور بعض جگہ توتے بھی رہا کرتے تھے۔

اب دالان اور صحن کی جگہ لابی نے لے لی ہے جہاں بیٹھ کر نہ آپ آسمان دیکھ سکتے ہیں اور نہ موسم گرما کی راتوں میں تاروں کی چھاؤں میں چارپائی بچھاکر سو سکتے ہیں، نہ سردیوں میں دھوپ سینک سکتے ہیں اور نہ برسات میں بارش کا مزہ لے سکتے ہیں۔ فطرت سے رابطے کا ہر راستہ ہم نے خود بند کردیا ہے۔ اصل میں ہماری موجودہ نسلوں کو اس بات کا پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ ہمارے زمانے کی کن کن نعمتوں سے محروم ہیں۔ یہ تو انھیں لوگوں کا دل جانتا ہے جنھوں نے کبھی ان کا لطف لیا ہے۔

امراء اور رؤساء کے مکانات کے بیرونی دروازے پر ایک پٹا ہوا احاطہ ہوتا تھا جس میں گھر میں آنے جانے کے لیے پھاٹک ہوتا تھا۔اسے ڈیوڑھی کہا جاتا تھا۔ یہ گویا ایک چھوٹا موٹا ہال ہوتا تھا جس کا مقصد یہ رہا ہوگا کہ ملاقاتی مکان میں داخلے کی اجازت ملنے تک وہاں انتظار کرسکے اور اسے گلی یا سڑک پر کھڑے ہوکر انتظار کرنے کی زحمت یا خفت نہ اٹھانی پڑے یا پھر جن لوگوں کو مکان کے اندر لے جانا ضروری نہ ہوتا انھیں ڈیوڑھی میں ہی بات چیت کرکے فارغ کردیا جاتا۔ یہاں بیٹھنے کے لیے چارپائی بھی بچھا دی جاتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ڈیوڑھی کو جگہ کی قلت کھا گئی اور دروازوں کے چوکھٹوں میں تین ہی کھونٹ رہ گئے اورزمین سے ملا ہو کھونٹ پتہ نہیں کب غائب ہوگیا اور اس کے ساتھ دہلیز کا تصور بھی۔ مردانہ اور زنان خانہ کا فرق مٹ گیا۔ بجلی کے ہیٹر نے آتش دان اور اس کے ساتھ کارنس کو غیر ضروری بنادیا اور طاقوں کی جگہ شیلف اور الماریاں آگئیں۔

پرانے زمانے کی ان چیزوں نے، جن سے انسان اپنی فطری مجبوریوں کی وجہ سے چھٹکارا نہیں پاسکتا، اب نئے قالب میں ڈھل کر نئے نئے نام اختیار کرلیے ہیں۔ پاخانہ یا بیت الخلا اس کی نمایاں مثال ہے۔ اس میں پہلا لفظ فارسی کا ہے اور دوسرا عربی کا۔ نئے زمانے میں اس کے لیے اب فارسی ، عربی یا اردو کا کوئی لفظ استعمال نہیں ہوتا بلکہ آج کل جتنے بھی الفاظ استعمال ہوتے ہیں سب انگریزی سے لیے گئے ہیں جیسے، لیٹرین، ٹوائلٹ، باتھ روم، اور اب نئے اور فینسی نام جیسے واش روم اور ریسٹ روم۔ بیت الخلا کےپرانے ناموں کے ساتھ اس سے متعلق پرانی چیزوں کے نام بھی فراموش ہوچکے ہیں جیسے کُھُڈی، قدمچہ اور آب دست۔ کھڈی کی جگہ اب کموڈ نے لے لی ہے ۔ آب دست فارسی کے دو الفاظ ۔’آب‘ (پانی) اور ’دست‘ (ہاتھ) سے مل کر بنا ہے ۔بول و براز سے فارغ ہونےکے بعد ان دونوں کے اشتراک سے ہی پاکی حاصل کی جاتی تھی۔ لیکن اب فراغت کے بعد بس کموڈ کے پیچھے لگا ہوا فوارہ کھولیے اور ایک مخصوص رکوع نما پوز بنا کر کچھ دیر تک مختلف زاویوں سے پہلو بدلتے رہیے، آپ کا کام ہاتھ کا استعمال کیے بغیر ہوجائے گا۔ ہمارے زمانے میں تو گھر میں پانی کا کنکشن ہی نہیں ہوتا تھا، چنانچہ بیت الخلا میں نل کے ہونے کا تصور بھی نہیں تھا۔ پانی باہر سے لوٹے میں بھر کر لے جانا پڑتا تھا۔ فلش کرنے کا سسٹم بھی نہیں تھا۔ اسی لیے اسے ڈرائی لیٹرین کہا جاتا تھا اور عموماً چوبیس گھنٹے میں اس کی ایک بار صفائی ہوتی تھی۔

بہر حال، کہنے کا مطلب یہ کہ اس زمانے میں بیت الخلا کے ساتھ ایک بدبو دار جگہ کا تصور وابستہ تھا ۔ اس زمانے کے بزرگ کہا کرتے تھے کہ پاخانہ اور سمدھیانہ دور ہی اچھے ہوتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ اس زمانے میں ہماری نانی کے قصباتی مکان میں پاخانہ دور داخلی دروازے کے پاس تھا اور وہاں تک پہنچنے کے لیے دو بڑے کشادہ آنگن پار کرنے پڑتے تھے اور رات میں تو وہاں اکیلے جانے کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی کیوں کہ اس وقت بجلی نہیں تھی چنانچہ ساتھ میں ایک محافظ اور ایک چراغ لے کر جانا پڑتا تھا۔ لیکن انقلاب زمانہ دیکھیے کہ لوگ اب بیت الخلا کو اپنے شب خوابی کے کمرے یعنی بیڈ روم میں لے آئے ہیں اور اسے باتھ روم کہنا شروع کردیا ہے کیوں کہ اب غسل خانے کو بھی اسی میں شامل کرلیا گیا ہے۔پہلے اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور غسل خانے میں پیشاب کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ نہانے اور پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل خانہ الگ ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب تو مکان بناتے یا خریدتے وقت کوشش ہوتی ہے کہ ہر کمرے کے ساتھ باتھ روم ملحق ہو۔ ویسے بھی اب باتھ روم اتنے صاف ستھرے، خوشبو دار، آرام دہ اور پُرسکون ہوتے ہیں کہ بہت سے شوہر چھٹی کے دن اپنا زیادہ تر وقت وہیں گزارنا پسند کرتے ہیں۔

خیر یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا، ہمارے کہنے کا مطلب صرف یہ تھا کہ وقت اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ پاخانے اور سمدھیانے کے دور ہونے سے متعلق ہمارے بزرگوں کا قول بھی اب گزرے زمانے کی بات ہوکر رہ گیا ہے۔جہاں تک سمدھیانے کا سوال ہے، نئی ٹیکنالوجی نے اب سمدھیانے کی فاصلاتی دوری کو بے معنی بنادیا ہے۔ چنانچہ جو کام پہلے آنے جانے سے ہی ممکن تھا، اب موبائل کے ذریعے بہت آسان ہوگیا ہے۔

بدلتے وقت کے ساتھ وقوع پذیر ہونے والی یہ ایسی تبدیلیاں ہیں جو ہماری نجی زندگی کے ساتھ ساتھ ہماری سماجی اور معاشرتی زندگی اور رہن سہن کو بھی متأثر کرتی ہیں اور ہماری زبان اور تہذیب کو بھی۔ ان تبدیلیوں کو ہم روک سکتے ہیں نہ ان کے اثرات سے بچ سکتے۔ لیکن ان کے مضر اور منفی اثرات سے اپنے آپ کو اور اپنی آئندہ نسلوں کو بچانے کی کوشش کر سکتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ شعوری طور پر ایسی کسی اجتماعی کوشش کے آثار نظر نہیں آتے۔ آج تو ہم اپنی زبان کے بہت سے الفاظ، اقوال، اصطلاحات اور محاوروں کی موت کا نوحہ کر رہے ہیں لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک دو نسلوں کے بعد ہم اپنی زبان کا ہی نوحہ کرتے سنائی دیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے زندگی کی تیز رفتاری اور آگے نکلنے کی دوڑ میں اپنی تہذیبی میراث کو اپنی ا ٓئندہ نسلوں تک پہنچانے کی ، ان کو اپنی تہذیب و تاریخ سے روشناس کرانے کی کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔ اپنی تہذیبی وراثت سے ناواقف ہماری نئی نسلوں کو اپنی اس دولت کے کھوجانے کا احساس بھی نہیں ہوگا، افسوس تو دور کی بات ہے۔

وائے ناکامی متاع ِ کارواں جاتا رہا”
“کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

دوست محمد خان ۔
Previous Post
Next Post

0 comments: