تازہ ترین
Loading...

Tuesday, October 27, 2020

‎لہلاں پکیاں !! او نئیں مُڑیاں

ایک ہندکو نظم بوجوہ اکثر احباب کے پلے نہیں پڑی کہ ہندکو اُن کی زبان نہیں ۔ اکثر ہندکو بولنے جاننے والے بھی نظم تک نہیں پہنچ سکے ، پہنچنا مُشکل بھی تھا ۔ یہ نظم برائے راست میرے بچپن اور میرے گاؤں سے متعلق ہے ۔ 
کوشش ہے کہ نظم تک آپ کو پہنچا دُوں ۔ کوشش ہو گی ہر ہندکو لفظ کا مطلب بیان کر دوں لیکن تلفظ تک پہنچنا بہرحال مشکل ہی رہے گا !!
مجھے اپنے گاؤں مکھناں سے بچھڑے اڑھائی دھائی سے اُوپر ہونے کو ہے لہذا موسموں کے حوالے سے بھی یاداشت گُم ہو چکی ہے۔ 
شہتوت کو ہم ہندکو میں تُوت کہتے ہیں اور تُوت کے پھل کو "" لِہلاں " کہا جاتا ہے ۔ یہ اعلٰی قسم کے شہتوت سے مختلف شہتوت ہوتا ہے جس کا پھل سائز میں بہت چھوٹا ہوتا ہے ۔ تُوت کو مزید پھل کی رنگت کی بنیاد پر دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ سُرخ پھل والے تُوت کو ہم " رَتا تُوت " اور بے رنگ ، زردی مائل یا سبزی مائل پھل والے تُوت کو " سیتا تُوت " کہتے ہیں ۔ سیتے تُوت کا پھل یعنی لِہلاں بہت میٹھی ہوتی ہیں ۔
تُوت کے درخت گاؤں میں کثرت سے ہوا کرتے تھے ۔ 
 طُوفانی ہواؤں کے جھکڑوں کے ساتھ سو فیصد دیسی چڑیا کے سائز کا ایک پرندہ کہیں سے ہجرت کر کے ہزارہ میں آیا کرتا تھا ۔ اس پرندے کو ہم " رتڑ " کہتے تھے ۔ رتڑ بطورِ اسم ہندکو زبان میں مطلق مادہ ہے ۔ رتڑ بلا مبالغہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں آتی تھی ۔ رتڑ قطعاً ہزارہ کا مقامی پرندہ نہیں ۔ یہ صرف ڈیڑھ دو ماہ کے لیے آتی تھی ۔ گمان ہے کہ اس کا اصلی وطن روس یا قدیم روسی ریاستیں ہوں گی ۔ رتڑ کی بھی دو قسمیں ہیں اور بنیاد رنگت ہی ہے ۔ سُرخ رنگ کی رتڑ " رتی رتڑ " اور ہلکے بُھورے رنگ کی رتڑ " سیتی رتڑ " کہلاتی ہے ۔ "" لِہلاں " یعنی تُوت کا پھل رتڑ کی مرغوب ترین غذا ہے ۔ لوکاٹ بھی شوق سے کھاتی ہے ۔ 
میں نے جب سے ہوش سنبھالا رتڑ کے شکار کو گاؤں کے کلچر کا حصہ پایا ۔ یہ شکار دن اور رات کے کسی بھی لمحے نہیں رُکتا تھا ۔ شکار کے لیے غلیل اور ائر گن استعمال ہوتی تھی ۔ دن کے شکار کو تو خیر ہم شکار کہہ سکتے ہیں لیکن باقاعدہ مغرب کے وقت ریکی کی جاتی تھی کہ رتڑ کے جھنڈ کے جھنڈ کون سے باغ اور درختوں کی کس پٹی پر بیٹھ رہے ہیں ۔ ٹولیوں کی ٹولیاں ہاتھوں میں طاقتور ٹارچ تھامے رات دس بجے گھروں سے مختلف سمتوں میں نکل پڑتیں اور پھر پُوری پُوری رات نیند میں ڈُوبی رتڑیں کہیں غلیل کے کنکر جنھیں ہم ہندکو میں : گِیٹا " کہتے ہیں سینے پر کھا کر گِرتیں تو کہیں ائر گن کے چھرے اُن کو میٹھی نیند سے جگا کر موت کا پیغام سُناتے ۔ 
اب مصرعہ بہ مصرعہ نظم کا ترجمہ پیش ہے !! 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" لہلاں " پِچھے آئیاں " چہلیاں "
( پگلی ہیں جو تُوت کے پھل کی تلاش میں یہاں چلی آئیں )

جانڑے کہڑے پاسوں عابی
(عابی نہیں جانتا کہ یہ کس دیس سے آئی ہیں )

ٹیم دی کٹوی سوہنڑی پکے
( جہاں یہ آئی ہیں یہاں کے لوگوں کی اولین ترجیح ہے کہ وقت کا کھانا شاندار پکے )

چبھ چبھ ہڈیاں لاواں چغے
( یہ اِن کو پکا کر انہیں ہڈیاں سمیت چباتے ہوئے مکروہ قہقہے لگانے والے لوگ ہیں )

جاگدی سُتی چُنڑ چُنڑ ماری
(یہ نہیں دیکھتے کہ وہ سو رہی ہیں یا جاگ رہی ہیں انہیں تو بس ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارنا آتا ہے )

گِنڑ گِنڑ تھکے او نہ تھکیاں
( یہ صرف اِن کو مارتے  نہیں ۔، مار کے گنتے بھی ہیں ۔ یہ لوگ سالہا سال کی گنتی سے کچھ تھکے تھکے لگ رہے تھے لیکن وہ اِتنی مسافتوں سے نہیں تھکتی تھیں اور موسم آتے ہی جان ہتھیلی پر دھرے حاضر ہو جایا کرتی تھیں ۔

کٹھیاں آئیاں !! کلیاں مُڑیاں
( وہ جب آتی تھیں تو اکٹھی آتی تھیں ۔ پُورے پُورے خاندان !! اور واپسی کے وقت وہ اکیلی واپس جایا کرتی تھیں  )

پینتی چالی سال آزمایا
ظرف ہزارے آلیاں دا !!
(میری یاداشت کے مطابق اُنہوں نے پینتیس چالیس سال مسلسل میرے سامنے ہزارہ کے گاؤں مکھناں والوں کے ظرف کو آزمایا تھا  )

آخر تھکیاں !!!
فِر نہ مُڑیاں !!
( پِھر وہ تھک گئیں اور واپس نہیں لوٹیں )

سیتیاں !!! رتیاں رتڑاں عابی !!
لہلاں پکیاں !! او نئیں مُڑیاں !!
او نئیں مُڑیاں !!!
( ہلکی بُھوری اور سُرخ رنگ کی رتڑیں !! تُوتوں پر پھل پک چُکے ہیں لیکن وہ نہیں آئیں !! وہ نہیں لوٹیں )

کٹوی وِچ ہُنڑ لہلاں سٹو !!!
( مکھناں گاؤں والو !! اب وہ نہیں آئیں گی !! اب تُم اپنی ہانڈی میں تُوت کے پھل یعنی لِہلاں پکاؤ !! )

پٹیاں وِچ پاؤ پہر پہر یوریا !!
( کھیتوں میں یوریا کھاد بھر بھر کے پھینکو !!  تا کہ فصلیں زیادہ ہوں !! )

پُتراں پہیجو باہر دیاں مُلکاں
( بیٹوں کو ولایت میں بھیجو کہ بوریاں بھر بھر پیسے کمائیں تا کہ تُم شاندار کھانے کھا سکو  )

دُکھ رتڑاں دا ہونڑ میں سمجیاں !!
( رتڑوں کا دُکھ مُجھ پر آج کُھلا !! )

نہ او دوڑ تے مکھڑاں مُڑیا !!
( کیوں کہ مجھ سے میرا گاؤں اور میرے گاؤں کی ندی دوڑ چِھن چُکی ہے )

لہلاں پِچھے رُلیا عابی !!!
( میں بھی تُوت کے پھل کی تلاش میں نِکلا تھا )

گِیٹے کھا کھا مریا عابی !!!
( میں بھی غلیلوں کے گیٹے ( پتھر ) کھا کھا کر مر چُکا ہوں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
Previous Post
Next Post

0 comments: