Thursday, January 3, 2019

سنت نبوی جو بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک سے آپ کو سے دوررکھے

طبی ماہرین رات کو 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینے کا مشورہ دیتے ہیں مگر بیشتر افراد اس پر عمل نہیں کرپاتے۔اب اس کی وجہ کچھ بھی ہو مگر یہ سب کو معلوم ہے کہ نیند کی کمی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے اور اس کا حل دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونے یا قیلولے میں چھپا ہے۔یہاں قیلولے کے ایسے فوائد بتائے جارہے ہیں جن کی سائنس نے تصدیقکی ہے، اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ سنت نبوی بھی ہے۔مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ قیلولے کا مثالی وقت 10 سے 45 منٹ تک ہوتا ہے، بہت زیادہ دیر تک سونا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ذہن تیز کرے
دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونا یا قیلولہ کرنا آپ کی ذہنی صلاحیتوں کو ایک بار پھر بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دوپہر کا وقت ایسا ہوتا ہے جب لوگوں کے لیے اپنے دفتری کام پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہوتا ہے جبکہ تخلیقی سوچ بھی زوال کا شکار ہورہی ہوتی ہے۔ تو اس کا علاج دوپہر کو کچھ دیر کی نیند میں چھپا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ 20 منٹ کا قیلولہ لوگوں کی مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔یاداشت بہتر کرے
دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونا یاداشت کو پانچ گنا بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ جرمنی کی سارلینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کو 45 منٹ تک کی نیند یا قیلولہ معلومات کا ذخیرہ ذہن میں برقرار رکھنے اور اسے دوبارہ یاد کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کے دوران دماغی سرگرمیاں نئی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے اہمیت رکھتی ہیں اور صرف 45 منٹ کا قیلولہ یاداشت کو پانچ گنا تک بہتر بناتا ہے۔دماغ جوان رکھے
امریکن ہیلتھ ان ایجنگ فاؤنڈیشن کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ عادت دماغ کی عمر بڑھنے سے بچاتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر میں ایک گھنٹے تک سونا دماغ کے لیے فائدہ مند ہے تاہم یہ دورانیہ اس سے زیادہ یا کم نہیں ہونا چاہئے ورنہ فائدہ نہیں ہوتا۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر میں ایک گھنٹے سونے کے عادی ہوتے ہیں وہ یاداشت، ریاضی کے مختلف سوالات اور دیگر چیزوں کو زیادہ بہتر طریقے سے کرپاتے ہیں۔دل کی صحت کے لیے فائدہ مند
دوپہر کو کچھ دیر کی نیند امراض قلب سے موت کے خطرے کو کم کرتی ہے۔ امریکا لہ ہاورڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 23 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ چھ سال تک لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ دوپہر میں آدھے گھنٹے کی نیند لیتے ہیں، ان میں امراض قلب یا ہارٹ اٹیک سے موت کا خطرہ 37 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ قیلولے کے بلڈ پریشر پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور فشار خون وہ مرض ہے جو امراض قلب اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ نمایاں حد تک بڑا دیتا ہے۔ذہنی تناو سے بچائے
جرنل آف کلینیکل اینڈرینولوجی اینڈ میٹابولزم میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر کو سونے کے عادی نہیں ان میں تناو ¿ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح زیادہ ہوتی ہے اور انہیں نفسیاتی مسائل کا تجربہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے طاری ہونے والی غنودگی بلڈپریشر کے ساتھ ساتھ ذہنی تناو ¿ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح بھی بڑھاتا ہے، جس سے تناؤ طاری ہونے لگتا ہے۔موٹاپے سے بچائے
کیا آپ کو معلوم ہے کہ دوپہر کو جنک فوڈ سے منہ موڑنا کس وقت بہت مشکل ہوتا ہے؟ درحقیقت اس وقت جسمانی گھڑی کا میکنزم سست روی کا شکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگ تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور خود کو متحرک کرنے کے لیے کسی چیز کا سہارا لیتے ہیں، تاہم اگر آپ کچھ منٹ کی نیند لے لیں تو صحت کے لیے نقصان دہ غذاو ¿ں کی خواہش دبانے میں مدد ملتی ہے، اس کا نتیجہ جسماین وزن کو کنٹرول میں رکھنے کی صورت میں نکلتا ہے۔
مزاج خوشگوار بنائے
ایک پرانی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ طالبعلم جو دوپہر کو کچھ وقت کے لیے سوتے ہیں ان کے اندر جسمانی توانائی بڑھتی ہے اور مزاج بھی خوشگوار ہوتا ہے، جبکہ دماغی الجھن کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔جسمانی دفاعی نطام مضبوط کرے
قیلولے کا ایک اور فائدہ جسم کی جراثیموں کے خلاف مزاحمت کو بڑھانا بھی ہے، نیند کی کمی سے جسمانی مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے جبکہ دوپہر کو کچھ دیر کی نیند اس نظام کے افعال کو بحال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ قیلولے سے جسمانی مدافعتی نظام مضبوط ہوا۔جسمانی کارکردگی بڑھائے
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ قیلولے سے جسمانی توانائی بڑھتی ہے جس کے نتیجے میں کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے، اب وہ ورزش ہو یا دفتری امور، یہ عادت جسمانی و دماغی کارکردگی بڑھانے میں مدد دیتی ہے، کچھ منٹ کی اس نیند کے دوران مسلز اور ٹشوز کو مرمت کا موقع ملتا ہے جو جسمانی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔تخلیقی صلاحیت بہتر کرے
قیلولہ کے بعد لوگوں کا ذہن تازہ دم اور غنودگی کی کیفیت محسوس نہیں ہوتی، جس کے نتیجے میں ذہن کی تخلیقی صلاحیت کو فائدہ پہنچتا ہے، اس کی مثال کچھ اس طرح ہے جب کمپیوٹر پر بہت زیادہ اوورلوڈ ہو یعنی بہت زیادہ فائلز اوپن ہو تو اسے ری بوٹ کیا جاتا ہے تاکہ اس کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے، ایسا ہی کچھ دوپہر کی نیند سے بھی ہوتا ہے جو ذہن کی صفائی کرکے اس کے لیے مسائل کا حل اور نئے آئیڈیاز کی تلاش آسان بنادیتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

مزید تحریریں