Thursday, August 30, 2018

امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یا صاحب الجمال و یا سید البشر، من وجہک المنیر لقد نور القمر!

امام المرسلین,خاتم الانبیا,فخر الرسل,وجہ تخلیق کائنات,رحمت اللعالمین ,صادق الوعد الامین حضرت محمد(صل اللہ علیہ وسلم) بن عبداللہ بن عبدالمطلب کا نزول ہمیشہ سے باطل کو چھبتا چلا آیا ہے اور روز اول سے ہی یہ خاتم الانبیاء اور اس کے عاشقین پر مختلف انداز سے ظلم و ستم کے نت نئے طریقے آزماتا رہا ہے - اہل مکہ ہوں یا یہود مدینہ، منافقین کے گروہ ہوں یا پھر قیصر و کسری، حزب الشیطان کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ کسی طرح آپ صل اللہ علیہ وسلم اور ان کے جانثاروں کو کرہ ارض سے ختم کر دیا جائے - لیکن اللہ رب العزت کا وعدہ بہرحال حق سچ ہے اور باطل مٹنے کے لیے ہی آیا ہے - اسی بنا پر اس کی ہر چال اور اس کا ہر وار اسے مزید ناکام اور رسوا کرتا رہا ہے -

یہ پہلا موقعہ نہیں کہ باطل ذہنوں نے معاذاللہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہو - تاریخ میں کئی واقعات موجود ہیں جب شیطان کے پجاریوں نے مسلم امت کے دلوں پر آری چلاتے ہوئے رہبر اعظم، ساقی کوثر اور رحمت اللعالمین کی دشمنی میں مختلف گھٹیا ہتھکنڈے آزمائے - لیکن جب جب باطل نے ان ہتھکنڈوں کو آزمایا اسے حق کی وہ گرجدار پکار سنائی دی کہ آن ہی آن میں باطل زمین بوس ہوتا رہا - یہ پکار دربار رسالت کے ان عاشقین کی تھی جو اپنے مال، جان، اولاد سے زیادہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی محبت میں دیوانے تھے - صحابہ کرام سے لے کر غازی علم دین شہید تک ہر دور میں ایسے پروانے موجود رہے جو نور محمد پر اپنی جان نچھاور کر دینے کو تڑپتے تھے - انہوں نے صرف دعوے نہ کیے بلکہ اپنی جان کے نذرانے پیش کر کے پورے عالم کو دکھایا کہ رسول اُمی صل اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر جان بھی کچھ قیمت نہیں رکھتی -

دور حاضر میں جب باطل اپنے بھرپور فتنوں کے ساتھ بام عروج پر ہے اور سادہ ذہنوں کو شکنجے میں لیے ہوئے ہے - جہاں سچ اور جھوٹ کے درمیان ابہام پیدا کرنے کا فن ترقی کی علامت ہے - جہاں آزادی اظہار رائے کو خصوصی طور پر اسلام دشمنی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور جہاں تعلیم یافتہ اور باشعور ہونے کا نعرہ گونجتا ہے - جہاں مذہب کو بنیاد بنانے کا تصور ہی ختم ہوتا چلا جا رہا ہے اسی قوم اور معاشرے میں چند بد بخت رسول امین کے معاذاللہ خاکے بناکر یہ باور کرواتے ہیں کہ واقعی مذہب اسلام اہمیت رکھتا ہے - تمام باطل کے یکجا ہونے کے باوجود وہ حق سے یوں خوفزدہ ہیں کہ بار بار مسلم امہ کے دلوں میں گستاخی رسول کے نیزوں سے کچوکے لگاتے ہیں - مسلم امہ کے صبر و تحمل کو آزماتے ہیں اور باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ شاید اب عاشقین اور مر مٹنے والے مٹ چکے ہیں - لیکن زمانہ گواہ ہے کہ جب بھی ناموس رسالت پر کسی نے حرف اٹھانے کی جرات کی اسے ہر ممکن طریقے سے منہ توڑ جواب دے کر ثابت کیا گیا کہ کمزور ہونے کے باوجود گستاخی رسول صل اللہ علیہ وسلم کسی صورت برداشت نہیں ہے -

مگر افسوس اس بات کا ہے کہ اب فداک ابی و امی یا رسول اللہ کہنے والوں کا ایک ہجوم ہونے کے باوجود چند بازاری لونڈے گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں مگر امت مسلمہ کے میر کارواں چند کھوکھلے بیانات دے کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے عشق کا حق ادا کر دیا - اسوہ رسول سے دوری باطل کو مسلسل گستاخی کی جانب راغب کرتی ہے مگر مسلم امہ فرقوں اور مسالک میں الجھ کر بیرونی سازشوں کا مقابلہ ہی نہیں کر پا رہی - اسی بنا پر مسلمانان عالم گستاخی رسول پر سوائے افسوس، چند مظاہروں اور کچھ کمزور بیانات کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے - ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلم امہ کم ازکم اس معاملے پر متحد ہو کر ہر ممکن کاروائی کرتی اور ہالینڈ کے ان گستاخوں کی گستاخی پر مکمل حکومتی بائیکاٹ کرتی لیکن حب جاہ و حب دنیا نے مسلم امہ کو یوں کمزور کر دیا کہ اب وہ سمندر کی جھاگ کی مانند ادنی ہی محسوس ہوتے ہیں اور باطل ان کے لفظوں کو ہیچ سمجھ رہا ہے - آج امت کے متحد ہو کر اسوہ رسول صل اللہ علیہ وسلم کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم حقیقی عاشقین میں اپنا نام لکھوا کر وقت کے قیصر و کسری کو زمین بوس کر سکیں - ذرا سوچیے کہ وہ نبی جو کہے
"فإني مباهٍ بكم الأمم يوم القيامة"
روز قیامت امتوں کے مقابل میں تم پر فخر کرنے والا ہوں -
کیا ہم اس کی ناموس کےلیے کچھ بھی نہ کریں؟
کاش امت مسلمہ اس قابل ہوتی کہ ہالینڈ کا سفارتی، معاشی اور سیاحتی بائیکاٹ کر کے انہیں باور کرواتی کہ ناموس رسالت صل اللہ علیہ وسلم پر کسی بھی گستاخ کو انگلی اٹھانے کا حق نہیں ہے -
اے خاصئہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

No comments: