Wednesday, November 8, 2017

گول گپے

گول گپے آپ کے سامنے ہوں اور آپ کے منہ میں پانی نہ آئے، ایسا ہو نہیں سکتا۔ اس میں موجود خفیہ لوزمات اور مسالے منہ میں گھلتے ہیں تو لگتا ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ لذیذ کوئی شے نہیں۔لیکن، گول گپوں کے بارے میں کچھ ایسے حقائق بھی ہیں جو آپ جان جائیں تو کھانا چھوڑ دیں گے۔گرمی اور مون سون کے موسم میں کھانوں میں
جراثیم کی افزائش تزیی سے ہوتی ہے، جبکہ سڑک پر ملنے والے لذیذ گول گپے جراثیم سے لدا بم بن جاتے ہیں۔گول گپے بناتے وقت انہیں ڈھیر ساے غیر معیاری اور بار بار استعمال کئے گئے تیل میں تلا جاتا ہے، جو دل کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔زیادہ تر گول گپے کا پانی نلکے کے پابنی سے تیار کیا جاتا ہے سڑک پر کہیں بھی مل جاتا ہے۔ یہ پانی صحت کیلئے شدید رسک پیدا کرتا ہے۔تقریباً تمام گول گپے والے پیک کرتے اور بناتے وقت اپنے بنا دھوئے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہیں، کچھ لوگوں نے پلاسٹک کے دستانوں کا استعمال کرنا شروع کیا ہے، لیکن وہ دستانے بھی ڈسپوز نہیں کرتے بلکہ انہیں دوبارہ استعمال میں لے آتے ہیں۔گول گپوں میں استعمال ہونے والے ابلے آلو اور چنے اکثر باسی ہوتے ہیں اور بچ جانے پر انہیں پھینکنے کے بجائے دوبارہ استعمامل کیا جاتا ہے۔ یہ آُ کو پیٹ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا کرسکتے ہیں۔تقریباً تمام گول گپے والے غیر معیاری اور ملاوٹ والے مسالوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ مسالے آُ کو بہت زایدہ بیمار بنانے کیلئے کافی ہیں۔چٹنی اور ساس جیسے فوڈ آئٹمز کو وفڈ گریڈ پلاسٹک میں نہیں رکھا جاتا، جبکہ پارسل کروانے پر انہیں بہت صحت بخش اخباروں میں میں لپیٹا جاتا ہے۔اکثر گول گپوں کے اسٹال سڑک کے بیچ میں ہوتے ہیں، جہاں مکھیاں اور دھول وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ اس لئے ان سے گریز کریں۔

No comments: