Tuesday, November 7, 2017

دنیا تم سے پہلے بھی تھی بعد میں بھی رہے گی

کبھی کبھی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ جس زندگی میں مقصدیت اور خوشیاں بھرنے کے لیے ہم سب بیل بنے ہوئے ہیں اور بے سمت بگٹٹ دوڑ رہے ہیں ایسی زندگی کس کام کی۔ہم سے بہتر فیملی لائف تو جانوروں کی ہے جو زیادہ تر وقت ایک ساتھ گذارتے ہیں اور انھیں کوئی عجلت بھی نہیں۔کیونکہ وہ اپنے ایجاد کردہ وقت اور تقسیمِ کار کے قیدی نہیں بلکہ فطرت کے بنائے ہوئے ٹائم ٹیبل کے تحت زندگی سے نبھا کر رہے ہیں۔
برا ہو ترقی کا جس نے اشیا اور لالچ تو عطا کردی مگر کوالٹی ٹائم چھین لیا۔اگر اپنی زندگی کا جائزہ لوں تو رائیگانی کا سوچ سوچ کے جھرجھری سی آجاتی ہے۔ بھارت اور پاکستان میں اوسط عمر سڑسٹھ اڑسٹھ برس کے لگ بھگ ہے۔ چلیے اس اوسط کو ہم کھینچ تان کے ستر برس فرض کر لیتے ہیں۔یعنی پچیس ہزار پانچ سو پچاس دن۔
اب ان ستر برسوں کو آپ مختلف خانوں میں تقسیم کر کے دیکھیں۔لگ بھگ ایک تہائی عمر یعنی تئیس برس نیند میں گذر جاتے ہیں۔باقی سینتالیس میں سے اکیس برس بیٹھ کر کام کرنے ، ٹی وی دیکھنے ، سستانے ، فون یا انٹرنیٹ پر ، جلنے کڑھنے یا تصوراتی دنیا میں صرف ہوجاتے ہیں۔اب بچے چھبیس برس۔ان میں سے اوسطاً پندرہ برس ہوش سنبھالنے سیکھنے سکھانے اور کام کی تلاش میں گذر جاتے ہیں۔اب باقی رھ گئے گیارہ برس۔

ان گیارہ برسوں میں سے بہت ہی کوئی طرم خان ہوا اور اسے زندگی کی مشقت نے مہلت دی تو چار برس اپنی مرضی کے کام ( لکھنا ، پڑھنا ، کھیلنا ، سیاحت ، فنونِ لطیفہ ) میں بسر کرنے کا موقع مل گیا۔مگر یہ سب کرنا ہمیں اکثر تب یاد آتا ہے جب بقول ساقی امروہوی
میں اب تک دن کے ہنگاموں میں گم تھا
مگر اب شام ہوتی جا رہی ہے

یہ زندگی جسے ہم یادادشت کی کمزوری کے سبب لافانی سمجھ کے جینے کی کوشش کرتے ہیں کیا واقعی ہم جینے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر زندگی ہمیں بسر کرتی ہوئی سامنے سے گذر جاتی ہے۔آئن سٹائن کی طرح کتنے لوگ سوچتے ہیں کہ جسے زندگی سے سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ دن چوبیس گھنٹے کا کیوں ہے، اڑتالیس کا کیوں نہیں ؟
ہم میں سے اکثریت ریاض ختم کی طرح سوچتی ہے۔ یعنی کب شام ہوگی،کب رات ہوگی،کب نیا دن نکلے گا اور کب گذرے گا۔ختم یوں نام پڑا کہ اس نے پوری کارآمد زندگی یوں گذار دی کہ ایک تھڑے پر بیٹھا آدم شماری کرتا رہتا اور دھوپ ستانے لگتی تو سامنے والے تھڑے پر منتقل ہو جاتا۔ ہر آتے جاتے سے کچھ کچھ دیر بعد ٹائم پوچھتا رہتا۔کوئی کوئی جگت بھی لگا جاتا کہ بھائی ختم تجھے ٹائم پوچھ کے کرنا کیا ہے ؟

ہم میں سے کتنے سوچتے ہیں کہ جتنی توانائی ہم اپنے ناکارہ پن کے دفاع میں صرف کرتے ہیں، اس سے آدھی توانائی میں کوئی ڈھنگ کا کام بھی تو کر سکتے ہیں۔مشفق دوست اور شاعر مرحوم جمال احسانی اکثر کہا کرتے تھے کہ جتنا دماغ ہم خود کو غریب رکھنے کے لیے لڑاتے ہیں اس سے آدھی محنت میں خوشحال بھی ہو سکتے ہیں۔کہتے تھے کہ سب سے زیادہ محنتی بھکاری ہوتا ہے۔ صبح سے شام تک اپنی جاب کرتا ہے، پھر بھی بھکاری کہلاتا ہے۔صرف اس لیے کہ اس کے پاس اس حالت سے نکلنے کے لیے کوئی آئیڈیا نہیں ہوتا۔جیسے کولہو کے بیل کے پاس کوئی آئیڈیا نہیں ہوتا۔
مگر کیا ضروری ہے کہ ہر کسی کے پاس کوئی نہ کوئی آئیڈیا ہو اور وہ پورا بھی ہو جائے۔تو پھر کیا کریں ؟
ہم اپنے بچوں کو کتنا معیاری وقت دیتے ہیں اور سنگل فیملیوں کے انٹرنیٹ زدہ بچے آپ کے ساتھ کتنا معیاری وقت گذارتے ہیں۔ہم جن بہن بھائیوں کے ساتھ بچپن میں دن رات بسر کرتے تھے اور کبھی تصور بھی نہ کرتے تھے کہ سفاک زندگی کس کو کہاں لے جائے گی۔ان کا ایک دوسرے سے آج کتنا رابطہ ہے ؟ دن میں کتنا ان کا خیال یا تصویر یا ان کے ساتھ گذرا کوئی لمحہ بلبلے کی طرح دل میں ابھرتا ہے اور پھوٹ جاتا ہے ؟
جو ماں آپ کے ساتھ تب سے ہے جب آپ خود سے کروٹ بھی نہیں لے پاتے تھے اور جو باپ آپ کے ساتھ تب سے ہے جب آپ نے اس کی انگلی پکڑ کے پہلا قدم بھرا تھا۔آج ان کے ساتھ کس قدر کمیونیکیشن باقی ہے (میں سلام دعا اور عزت افزائی اور سرجھکا کے بات سن لینے کی بات نہیں کر رہا۔کمیونیکیشن کی بات کر رہا ہوں )۔

کیا آج بھی آپ کے والدین آپ سے بے ساختہ کوئی بھی بات کرنے کا حق استعمال کرتے ہیں یا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب آپ ان کے پاس آ کر بیٹھتے ہیں یا کب آپ کا موڈ اتنا اچھا ہوتا ہے کہ وہ آپ سے دل کی بات کہنے کی جرات کر سکیں۔ سال میں تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں۔گذشتہ برس جتنے گھنٹے آپ نے اپنی فیملی کے ساتھ بنا کسی دباؤ کے ہنسی خوشی گذارے ان کو جوڑ کر دنوں میں تبدیل کرنے کا تجربہ کیجیے۔اگر تین سو پینسٹھ میں سے پانچ دن بھی نکل آئے تو میں آپ کے رویے پر رشک کروں گا۔
آپ بھلے امیر ہوں کہ غریب۔فراغت خوشی دیتی ہے مگر ضرورت سے زیادہ فراغت زنگ آلود ہوتی ہے اور خالی دماغ میں رائیگانی ، نکتہ چینی ، منفیت اور حسد کے کیڑے مکوڑے گھر بنانا شروع کر دیتے ہیں۔آپ ذرا بھارت اور پاکستان میں عدالتی ماحول کا جائزہ لیں۔سب سے زیادہ دیوانی مقدمات ان سائلین کے ہوں گے جن کی عمر پچاس برس یا زائد ہوگی۔
جوانوں کو اتنی فرصت کہاں کہ ہر پھڈے میں ٹانگ اڑانے ، میم میخ نکالنے یا اذیت پسندی کے لیے وقت نکل پائے۔چھوٹے شہروں میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جن کی زندگی میں مقدمہ ہی مصروفیت ہے۔آپ وکیلوں کے آس پاس یا عدالتی منشیوں کے ساتھ سر جوڑ کے کھسر پھسر کرنے یا عدالتی کینٹین میں ہاف سیٹ چائے پر آٹھ سے تین بجانے والوں کے چہرے دیکھتے چلے جائیں۔ جوان چہرے اقلیت میں ہی نظر آئیں گے۔

کہنا شائد میں یہ چاہ رہا ہوں کہ اپنی زندگی تباہ نہ کریں اور بطور انسان آپ کو جو چند کارآمد سال قدرت عطا کرتی ہے انھیں اپنی بساط کے مطابق معیاری اور مثبت انداز میں کھپانے اور اپنوں اور دوسروں کے لیے راحت کن شخصیت بننے میں لگائیں۔اس عیاشی کے لیے بے تحاشا وسائل یا پیسہ ہونا شرط نہیں۔
محلے میں میرا سب سے اچھا دوست خلیل موچی ہے۔ میں اس کی چھوٹی سی دنیا کی سیدھی سادی گفتگو کی جھونپڑی میں کچھ دیر بیٹھ کر اس کے بے ضرر قصے اور زمانے کے بارے میں اس کا نقطہِ نظر بلا ٹوکے سنتا رہتا ہوں اور وہ جوتے بھی گانٹھتا رہتا ہے۔آج تک خلیل نے کسی کے بارے میں کوئی غیبت کی اور نہ ہی اپنی محرومیوں کا چارٹ اپنے چہرے پر چسپاں کیا۔اسی لیے پینسٹھ برس کی عمر میں بھی اس کا چہرہ مسکراہٹ کی گرمی سے تمتماتا رہتا ہے۔
صحبا دنیا تم سے پہلے بھی تھا بعد میں بھی رہے گا۔رونا دھونا تمہارا عمر نہیں بڑھا سکتا کم کر سکتا ہے تو پھر ہنس بول کے سفر کاٹنے میں کیا مسئلہ ہے۔۔۔

No comments:

مزید تحریریں

Contact Form

Name

Email *

Message *

Popular Posts