Sunday, November 19, 2017

اردو کی عظمت اور الفاظ کا استعمال

جانوروں کے بچے کو ہم بچہ ہی کہتے ہیں ..
مثلا سانپ کا بچہ،
الوداع کا بچہ،
بلی کا بچہ،
* لیکن اردو میں *
ان کے لئے جدا جدا لفظ
ہیں. مثلا:
بکری کا بچہ: میمنا
بھیڑ کا بچہ: برہ
ہاتھی کا بچہ: پاٹھا
الو الو کا بچہ: پٹھا
بلی کا بچہ: بلونگڑہ
بچھیرا: گھوڑی کا بچہ
کٹڑا: بھینس کا بچہ
چوزا: مرغی کا بچہ
برنوٹا: ہرن کا بچہ
سنپولا: سانپ کا بچہ
گھٹیا: سور کا بچہ

اسی طرح بعض جانداروں اور غیر
جانداروں کے بھیڑ کے لئے
خاص الفاظ مقرر ہیں. جو اسم جمع کی حیثیت رکھتے ہیں؛
مثلا:
طلباء کی جماعت،
پرندوں کی غول،
بھیڑوں کا گلہ،
بکریوں کا ریوڑ،
گووں کا چونا،
مکھیوں کی جھلڑ،
تاروں کی جھرمیٹ یا جھومڑ،
ادمیوں کی بھیڑ،
جہازوں کی بحالی،
ہاتھیوں کی ڈار،
کبوتروں کی ٹکڑی،
بانسوں کی جنگل،
درختوں کی جھنڈ،
اناروں کا کنج،
بدمعاشوں کی ٹوولی،
سواروں کا دستہ،
انگور کا گچھا،
کیلوں کی گہل،
ریشم کا لچھا،
مزدوروں کی جتھا،
فوج کا پرا،
روٹیوں کیٹھپی،
لکڑیوں کا گٹھا،
کاغذوں کی گڈی،
خطوں کا طومار،
بالوں کا گچھا،
پانوں کی ڈھولی،
کلابتوں کا کنجی.

* اردو کی عظمت کا اندازہ اسکیجئے کہ ہر جانور کی علیحدہ لفظ کے لئے، *
مثلا:
شیر دھاڑتا ہے،
ہاتھی چنگھارتا ہے،
گھوڑا ہنہناتا ہے،
گدھا ہیچیں ہیچیں کرتا ہے،
کتا بھونکتا ہے،
بلی میاوں کرتا ہے،
گائے رانبھتی ہے،
سانڈ ڈکارتا ہے،
بکری ممیاتی ہے،
کوئلکوکتی ہے،
زیا چیں کرتا ہے کرتا ہے،
کوا کائیں کائیں کرتا ہے،
کبوتر غٹر غوں کرتا ہے،
مکھیبھنبھناتی ہے،
مرغی ککڑاتی ہے،
الوداع ہے،
مور چنگھارتا ہے،
طوطا رٹ لگاتا ہے،
مرکو ککڑوں کوں ککڑوں کوں کرتا ہے،
پرندے چہچہاتے ہیں،
اونٹ بغبغاتا ہے،
سانپ پھونکارتا ہے،
گلہری چٹ چٹاتی ہے،
مینڈک ٹراتا ہے،
جھینگر جھنگارتا ہے،
بندر بندرگاہ ہے،

* مختلف چیزوں کی آوازیں مختلف ہیں
الفاظ ہیں *
مثلا
بادل کی گرج،
بجلی کی کڑک،
ہوا کیسنسناہٹ،
توپ کی دنادن،
صراحی کی گٹ گٹ،
گھوڑے کی ٹاپ،
روپیوں کی کھنک،
ریل کی گھڑ گھڑ،
گویوں کی تاتا ری ری،
طبلے کی تھیپ،
طنبورے کی آس،
گھڑی کی ٹک ٹک،
چھڑی کا چوں،
اور
چکی کی گھڑی

* ان اشیاء کی خصوصیت کے لئے ان میں
الفاظ پر غور کریں *:
موتی کی آب،
کندن کی دمک،
ہیرے کی ڈائلک،
چاندنی کی چمک،
گھنگھرو کی چھن چھن،
دھوپ کا تڑاقا،
بو کی بھبک،
عطر کی لپٹ،
پھول کی مہک

* مسکن کے متعلق مختلف الفاظ *
جیسے
بارات کا محل،
بیگموں کا حرم،
رانیوں کا انواس،
پولیس کی بارک،
رشی کا آشرم،
صوفی کا حجرہ،
فقیہ کا تکیہ یا کٹیا،
بھلے مانس کا گھر،
غریب کا جھونپڑا،
بھڑوں کا چھتا،
لومڑی کی بھٹ،
پرندوں کا گھونسلہ،
چوہا کا بل،
سانپ کی بانبی،
فوج کی چھاونی،

No comments: