Sunday, October 29, 2017

اپنے ضمیر سے اک سوال

First they came for the Socialists, and I did not speak out—
Because I was not a Socialist.
Then they came for the Trade Unionists, and I did not speak out—
Because I was not a Trade Unionist.
Then they came for the Jews, and I did not speak out—
Because I was not a Jew.
Then they came for me—and there was no one left to speak for me.
یہ شہرہ آفاق نظم مارٹن نائیمولر نامی پادری کی ہیں، ہٹلر کے دور عروج میں یہ شخص اُس کا بدترین ناقد تھا، یہ وہ دور تھا جب جرمنی ہٹلر کے عشق میں مبتلا تھا، لوگ خلوص نیت سے یہ سمجھتے تھے کہ ہٹلر جو کر رہا ہے ملک کے لئے درست ہے اور جو اُس کا مخالف ہے وہ ملک دشمن ہے، جرمن اسے اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے، ہٹلر اُن کی نظروں میں وہ مرد آہن تھا جو جرمنی کا کھویا ہوا وقار بحال کروا کے اسے ایک سپر پاور میں تبدیل کر رہا تھا۔ اِن حالات میں اِس پادری نے ہٹلر کے فاشزم کی کھلم کھلا مخالفت کی جس کی پاداش میں اسے سات برس نازی کیمپوں میں قید گزارنی پڑی۔ 
یہ وہی نازی کیمپ ہیں جن کے بارے میں ایک جرمن استاد نے (جس نے وہاںقید کاٹی تھی) لکھا تھا کہ

  ’’میں اُن لوگوں میں سے ہوں جو نازی کیمپ سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے، میں نے جو کچھ وہاں دیکھا میری دعا ہے کہ کسی اور کی آنکھیں وہ کبھی نہ دیکھیں۔ 
گیس چیمبر جیسی موت کی مشین انہوں نے بنائی جو نہایت قابل انجینئر تھ ۔ بچوں کو زہر دے کرموت کی نیند انہوں نے سلایا جو پڑھے لکھے سائنس دان تھے۔ نومولودوں کو تربیت یافتہ نرسوں نے موت کے گھاٹ اتارا۔ بچوں اور عورتوں کو گولی مار کر قتل کر دینے والے اسکولوں اور کالجوں کے سندیافتہ تھے۔ میں تب سے تعلیم کے بارے میں شک میں مبتلا ہوں  

   لہٰذا خیال رہے کہیں آپ کی تمام تر جدوجہد کے نتیجے میں قابل درندے، ہنرمند ذہنی مریض یا پڑھے لکھے جنونی پیدا نہ ہو جائیں۔  

 پڑھنا، لکھنا، درست ہجے کرنا یا ریاضی اور تاریخ کا مطالعہ اسی صورت میں سودمند ہے اگر اس سے ہمارے نوجوان صحیح معنوں میں انسان بن سکیں۔‘‘ اذیت میں لکھی گئی یہ ایک طاقت ور تحریر ہے۔
اتوار کا دن چھٹی کا ہوتا ہے، بندہ اخبار اٹھاتا ہے، میگزین کے سرورق پر ، پھر خبروں پر اُچٹتی سے نظر ڈالتے ہوئے کوئی چٹ پٹا اخباری کالم پڑھنا چاہتا ہے، مگر میں نے آپ کو چھٹی والے دن بھی بدمزا کر دیا، اس کا مجھے اندازہ ہے، لیکن کیا کیجئے، ہم سب اپنے اپنے کمفرٹ زون (آرام دہ حصار)میں رہنا چاہتے ہیں، بالکل اُس فوٹوگرافر کی طرح جس کے پاس چند برس قبل میں تصویر کھنچوانے گیا تو اچانک اُس کے فون پر کسی نے اطلاع دی کہ لاہور کی مال روڈ پر دھماکہ ہوا ہے، اِس پر اُس شخص کا ایک سطری تبصرہ تھا کہ’’

 اچھا مال روڈ پر ہوا ہے ،یہاں گلبرگ میں تو نہیں ہوا ناں!‘‘ جو لوگ لاہور میں نہیں رہتے اُن کے لئے عرض ہے کہ گلبرگ سے مال روڈ کا فاصلہ بمشکل چھ سات کلومیٹر ہے۔ کئی برس ہم نے ایسے ہی گزار دیئے کہ اچھا بلوچستان کے کسی دور دراز علاقے میں فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں، یہاں اسلام آباد میں تو سب امن ہے ناں، اچھا فاٹا میں چھ بچے کھلونا بم سے ہلاک ہو گئے ہیں، یہاں لاہور کے ایچیسن میں تو کچھ نہیں ہوا ناں، اچھا دِیر میں سنا ہے کہ ہمارے کچھ جوان شہید ہوئے ہیں یہاں پنجاب میں تو بہت اچھی گورننس ہے ناں، اچھا کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو مارا جا رہا ہے چلو شکر ہے کہ میں تو سنّی ہوں ناں، اچھا اندرون سندھ ہاریوں پر بڑا ظلم ہوتا ہے چلو شکر ہے میں تو پنجابی ہوں ناں! حالانکہ جنگل میں جب آگ لگتی ہے تو کوئی نہیں بچتا۔ فاٹا سے لے کر لاہور تک پھر ایسی آگ لگی کہ ہم آج تک بجھانے میں لگے ہیں۔

 اُس پادری کی نظم پھر یاد آتی ہے۔ یہ نظم ایک ایسے مردہ معاشرے میں لکھی گئی تھی جہاں ہر کوئی خلوص نیت سے خود کو محب وطن سمجھ کر ہٹلر کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا تھا۔ ثبوت کے طور پر اُس زمانے کی ہٹلر کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں، لاکھوں کے مجمع سے وہ خطاب کیا کرتا تھا اور ہر شخص دم بخود بیٹھا اسے سنتا تھا، اس سے محبت کرنے والے عوام کا جم غفیر یہ سمجھتا تھا کہ یہ شخص جرمن قوم کا مسیحا ہے، انہیں نطشے کا فوق البشر ہٹلر کی شکل میں نظر آتا تھا۔ اس دور میں جرمن کمپنیاں ہٹلر کی فورس کے لئے لباس ڈیزائن کرتی تھیں، کاروباری ادارے خود کو ہٹلر کے ساتھ وابستہ کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے، آج وہی کمپنیاں اپنے کئے پر نادم ہیں اور کفارے کے طور پر اِن کمپنیوں نے مختلف فنڈ قائم کر رکھے ہیں جن میں وہ عطیات دیتی ہیں تاکہ اپنے جرم کا ازالہ کیا جا سکے۔ فسطائیت کے اُس دور میں جب ہٹلر نے یہودیوں کی نسل کشی کا فیصلہ کیا تو جرمن قوم اُس کے ساتھ تھی، یہ کوئی جاہل لوگ نہیں تھے، یہ تمام پڑھے لکھے اور اپنے تئیں محب وطن لوگ تھے جنہوں نے گیس چیمبر ایجاد کئے۔
معصوم بچوں کو خوفناک تجربات کی بھینٹ چڑھا کر اطمینان سے موت کی نیند سلا دیا اور عورتوں کی تذلیل اور بے حرمتی کی نئی مثالیں قائم کیں۔ اُس زمانے میں یہ نظم لکھی گئی جو آج بھی امریکہ کے ہولوکاسٹ میوزیم میں آویزاں ہے۔ آج دنیا میں اگر قابل نفرت لوگوں کی فہرست بنائی جائے تو ہٹلر کو اُس میں ایک نمایاں مقام حاصل ہوگا مگر 1939کے جرمنی میں ہٹلر کا کوئی حامی اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑا ہے یا محب وطن نہیں ہے۔ تاریخ کا ننگا اور سفاک فیصلہ مگر اس کے بالکل الٹ نکلا۔

تاریخ سے ہم کچھ نہیں سیکھتے۔ بائیس کروڑ انسانوں کا یہ ملک تو ہے مگر معاشرہ مردہ ہے۔ سوائے مٹھی بھر افراد کے کسی کو پروا نہیں کہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔ اپنے تئیں ہم سب ہی محب وطن ہیں مگر کیا تاریخ بھی ہمیں محب وطن ہی سمجھے گی؟ اس بات کا فیصلہ تاریخ پر چھوڑتے ہیں بالکل ایسے جیسے تاریخ نے امام حسینؓ اور یزید کا فیصلہ کردیا، یزید طاقت ور تھا، جنگ جیت گیا، آل محمد ﷺ کو روند ڈالا مگر تاریخ میں امام عالی مقامؓ فاتح ٹھہرے، ایک ناقابل بیان وقار اور عظمت کے ساتھ جس کی کوئی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ ہم یہ دعوی ٰ تو کرتے ہیں کہ اگر میں کربلا میں ہوتا تو حسینؓ کے لشکر میں ہوتا، آج مگر ہم کہاں کھڑے ہیں، اپنے آپ سے پوچھ لیں، ضمیر اگر مردہ نہیں ہوا تو شاید سچا جواب تلاش کرنے میں مدد دے۔

No comments: