Tuesday, October 24, 2017

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور وحدت امت

حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی ولادت ١٨١٤ میں قصبہ نانوتہ ضلع سہارنپور میں ہوئی، آپ کا نام نامی آپ کے والد مرحوم نے امداد حسین رکھاتھا، لیکن حضرت شاہ محمد اسحاق صاحب نبیرئہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے امداد اللہ کے لقب سے ملقب کیا۔ آپ کا تاریخی نام ظفر احمد تھا اور والد کا نام حافظ محمد امین بن شیخ بڈھا بن حافظ شیخ بلاقی تھا (شمائم امدادیہ ص4)

سولہ سال کی عمر میں مولانا مملوک علی صاحب مشہور استاد مدرس صدر شعبہ علوم شرقیہ دہلی کالج کے ہمراہ دلی کے سفر کا اتفاق ہوا سی زمانے میں فارسی کی مختصر کتابوں کے ساتھ ساتھ صرف و نحو پر عبور حاصل کیا ۔مولانا رحمت علی تھانوی سے تکمیل الایمان، شیخ عبدالحق دہلوی سے قرت اخذ فرمائی (شمائم امدادیہ ص4)

حاجی صاحب مرحوم نے اٹھارہ سال کی عمر میں مولانا نصیر الدین صاحب نقشبندی مجددی دہلوی سے بیعت کیا، ان کے انتقال کے بعد مولانا میانجی نور محمد جھنجھانوی سے بیعت کی، میانجی مرحوم کے پیر شاہ عبدالرحیم ولایتی صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقہ طورو مایار ضلع مردان میں مدفون ہیں ۔

حاجی صاحب کی ایک خاص صفت جو اولیا کرام میں ان کا خاص طرہ امتیاز تھا ان کی وسعت قلبی اوررواداری تھی’ کسی کی دل شکنی توان کے مذہب میں قطعاروا نہ تھی، کسی سے معاصرانہ چشمک کا دوردور تک نشان نہ تھا، اس قسم کے مصلح تھے کہ دیوبندی ،بریلوی، اہل حدیث عرضکہ ہر طبقے کے لوگ آپ کے مرید تھے۔ فروعی یامسلکی مسائل کی بجائے اصلاح وارشاد پر توجہ دیتے تھے۔ ( چالیس بڑے مسلمان ص 69)
ایک دفعہ ایک اہل حدیث آپ کامرید ہوا،لیکن اس نے جلد ہی امین بالجہر اوررفع الیدین ترک کردیا، آپ نے ان کو بلا کر فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا کہ تم نے آمین بالجہر (تیز آواز سے امین) اوررفع الیدین ( نماز میں ہاتھ اٹھانا ) چھوڑ دیا ہے ؟ کیا ایسا خود کیا ہے؟یا ہماری وجہ سے؟
اگر ہماری وجہ سے ایسا کیا ہے تو بھائی ایسا نہ کرو، میں ترک سنت کا باعث کیوں بنوں؟ سنت یہ بھی ہے اوروہ بھی، اور اگر اپنی مرضی سے کیا تو خیر… اس نے عرض کیا حضرت ! میں نے تو اپنی مرضی سے ایسا کیا ہے ۔ ( چالیس بڑے مسلمان ص69)
حاجی صاحب نے مختلف مقامات پر اتحاد امت کے لئے رہنما اصول اور چند اہم آداب اختلاف بیان فرمائے ہیں جس کو مدنظررکھتے ہوئے اور عمل کرتے ہوئے یقیناً ہم فرقہ وارانہ تصادم کو ختم کرسکتے ہیں۔نیز دیگر مسالک ومکاتب فکر کوایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔حاجی صاحب کی کتاب فیصلہ ہفت مسئلہ میں اختلافات کی صورت میں طریقہ عمل کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ۔۔

1۔اختلافی مسائل میں ہرفریق کے پاس دلائل شرعیہ ہیں اگرچہ ان دلائل کی قوت و ضعف میں فرق ہو جیسا کہ اکثر مسائل اختلافیہ فرعیہ میں ہوتا ہے، پس خواص کو تو چاہیے کہ جو ان کو تحقیق سے معلوم ہوا ہے اس پر عمل رکھیں۔

2۔دوسرے فریق کے ساتھ بغض وکینہ نہ رکھیں، نہ نفرت و تحقیر کی نگاہ سے دیکھیں، نہ تفریق و تضلیل کریںبلکہ اس اختلاف کو مثل اختلاف حنفی و شافعی سمجھیں

3۔باہم ملاقات، مکاتبت، سلام، موافقت و محبت کی رسوم جاری رکھیں یعنی سماجی تعلقات قائم رکھیں۔
4۔تردید و مباحثہ خصوصاًبازاریوں کی طرح گفتگو سے اجتناب کریں کیونکہ یہ منصب اہل علم کے خلاف ہے۔

5۔ایسے مسائل میں نہ کوئی فتویٰ لکھیں اور نہ دستخط کریں کہ فضول ہے۔ جیسا کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فتویٰ
6۔ ہر ایک عمل میں ایک دوسرے کی رعایت کریں۔ یعنی جب دوسرے مسلک والوں کے پاس جائیں تو ان کی طرح اعمال کریں۔
7۔عوام نے جو غلو اور زیادتیاں کر لی ہیں ان کو نرمی سے منع کریں۔

8۔منع کرنا ان لوگوں کا مفید ہو گا جو اس عمل کے جواز کے قائل ہیں۔ اور جو اس عمل کے عدم جواز کے قائل ہیں ان کا خاموش رہنا بہتر ہے۔ (مسلکی منافرت کے خاتمہ کیلئے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کون سی بات کس نے کرنی ہے اور کس کی بات زیادہ اثر رکھے گی۔ اور کون یہ بات کرے گا تو معاملات اور خراب ہوں گے)
9۔ فتنہ سے بچیں اور کسی جگہ کے رسم و رواج اور عادات سے اگر آپ موافقت نہیں رکھتے تو ان کی مخالفت بھی نہ کریں۔

10۔ دونوں مکاتب فکر یا فریقین ایک دوسرے کے نقطہ نظر کی تاویل کر لیا کریں یعنی اچھی توجیہ کریں۔
11۔ عوام کو چاہیے کہ جس عالم یا دیندار آدمی کو محقق سمجھیں اس کی تحقیق پر عمل کریں اور دوسرے فریق کے لوگوں سے تعرض نہ کریں۔خصوصا دوسرے مسالک کے علماء کی شان میں گستاخی کرنا چھوٹا منہ بڑی بات کے مصداق ہے۔

12۔غیبت و حسد سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں، ان امور سے پرہیز کریںاور تعصب اور عداوت سے بچیں۔
13۔ ایسے مضامین کی کتابوں اور رسائل کے مطالعہ سے بچیں جن میں اختلافی مسائل بیان ہوں،کیونکہ یہ کام علماء کا ہے

14۔مسلکی منافرت کے خاتمہ کے لئے اختلافی مسائل پر مباحثہ ، قیل و قال نہ کرنااور ایک د وسرے کو وہابی و بدعتی نہ کہنا، اور عوام کو جھگڑوں اور غلو سے منع کرنا علمائے کرام کی ذمہ داری ہے۔ (راہ اعتدال: ص 31)

No comments:

مزید تحریریں

Contact Form

Name

Email *

Message *

Popular Posts