Urdu Maktab

ہم اردو مکتب ڈوٹ کام پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں

Friday, October 6, 2017

سررہ گزر احتیاط، تحمل، تدبر

تمام زمینی غیر زمینی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم ضد کر کے ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ جہاں سے آنے والی خبریں اچھی نہیں، ایک قیامت ارباب حکومت و سیاست نے برپا کر دی ہے جس کی نشانیاں جابجا دکھائی دے رہی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن نے بھی ہماری حالت کو بھانپ کر کہا ’’امریکہ کو پاکستانی حکومت کے مستقبل پر تشویش ہے۔‘‘ ہم بہتر نہیں سمجھتے کہ غلطیوں اور غفلتوں کا ذکر چھیڑیں لیکن آثارِ خودساختہ قیامت دیکھ کر احتیاط، تحمل اور تدبر اختیار نہ کیا تو کوئی بڑی آفت ہمیں اختیار کر لے گی۔ اس ملک میں ستم ظریفی یہ ہے کہ سارے گناہگار، عوام کی رضائی میں گھستے ہیں، جو پہلے ہی پھٹی پرانی اور بوسیدہ ہے۔ عوام کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں لیکن اس ملک کے حکومتی، غیرحکومتی کرتا دھرتا ہر کام عوام کے نام کو بدنام کر کے کرتے اور اپنے لئے راہ جواز ہموار کرتے ہیں۔ عوام بیچارے ویسے تو معصوم ہیں مگر بھیڑ بکریاں ہیں اور بھیڑیوں کو گھر کھانے پر بلاتے ہیں اور وہ عوام کا کھاتے ہیں عوام کو کچھ نہیں دیتے۔ عوام کو اب حق حاصل ہے کہ در انصاف پر درخواست لے کر پہنچ جائیں کہ یہ چند لوگ سیاہ کریں سفید کریں ان کا نام نہ لیں کیونکہ حکمران اور حکمران بننے والا سارا سٹاک اس ملک، قوم اور جمہوریت کے ساتھ مخلص نہیں۔ بزدل فرعونوں کا جتھہ دہانِ نیل تک آ پہنچا ہے۔ حالات کی دگرگونی و خرابی موسیٰ ؑ بن کر ان کو ڈبوتی نظر آنے لگی ہے۔ تکبر، غلط دعوے، رعونت، ڈھٹائی اور گناہ پر اصرار اب بھی ترک نہیں کیاگیا، کچھ بھی گھر سے چوری نہیں ہوا، سب ٹھیک ہے مگر یہ طالع آزمائوں کے لئے قابلِ ہضم نہیں، اس لئے خاموشی سے حالت اعتراف گناہ میں توبہ کی ڈھال لے کر 2018کے انتخابات کے لئے اپنے اعمال کی اصلاح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے مگر شاید ایسا نہیں کیا جائے گا
کوئی بیرونی سازش درکار نہیں
اطلاعات کے تمام ذرائع سے ملنے والی خبروں اور معلومات کو پیش نظر رکھ کر واشگاف انداز میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہا اس پراڈکٹ میں پاکستان خودکفیل ہے، یہ جو اکثر تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی بات کی جاتی ہے، تو عوام کے علاوہ باقی سب خود تابوت ہیں، خود ہی لاش اور خود ہی آخری کیل البتہ ٹھونکنے کا کام پردئہ غیب سے کر دیا جائے گا، کیونکہ وہ ذات گرامی سب کچھ دیکھتی سنتی ہے، اور اس کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ عوام کو روز اول سے اس حال میں رکھا گیا ہے کہ وہ اس مخصوص طبقۂ خواص کے کرتوتوں پر توجہ دینے کے لئے فارغ ہی نہیں، کمایا عام آدمی نے کھایا خاص آدمی نے، اب مروڑ تو اٹھیں گے۔ روز حساب سے پہلے روز مکافات ضرور آتا ہے۔ پہلا حساب شروع ہو چکا ہے دوسرا اور حتمی جب ہو گا تب ہو گا اس کی پروردئہ حرام افراد کو کیا پروا؟ ہمیں آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ دنیا رسہ کشی کا میدان ہے، یہاں یہ کہنا کہ فلاں نے ہمارے خلاف بیرون وطن سے سازش کی فلاں بیرون وطن ہمارا خیر خواہ ہے، یہ وہ قوم کہہ سکتی ہے جس کا اندر درست ہو، ہمیں اپنی بربادی کے لئے کسی آسمانی بجلی کی بھی ضرورت نہیں، کسی نے کہا آج تو ہم عاد و ثمود سے بھی آگے نکل گئے ہیں عذاب کیوں نہیں آتا، ہاتف غیبی نے جواب دیا تم خود ہی کافی ہو، تمہارے لئے آسمانی نہیں زمینی عذاب ہی کافی ہے اور یہ تم نے خود اپنے ہاتھوں اپنی زمین پر کاشت کیا ہے، جہاں ایک کھائے سو دیکھیں وہاں عذاب کی کیا ضرورت ہے۔ کتنے ہی عذاب ہم نے خود پالے خود سینچے اور جب وہ دیار غیر میں داد عیش دینے جاتے ہیں تو ہم نادان باغبان کہتے ہیں؎
یونہی پہلو میں بیٹھے رہو آج جانے کی ضد نہ کرو!
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
حق گوئی و بیباکی مہنگا سودا
اہل دانش کو اصل بات کا علم ہے، ایک خوف ہے جو انہیں اصل بات چھپانے کے لئے دانشور تو بنا دیتا ہے حق گو نہیں بننے دیتا، اور اگر خوف ہے تو پھر دعوائے دانش عبث ہے، اچھا ہے کہ جہلاء میں شامل ہو جائیں، ریوڑ میں پھر بھی بچنے کی مہلت مل جاتی ہے مگر باری ضرور آتی ہے، خاموشی بڑی اچھی چیز ہے، ہزار آفتوں سے بچا دیتی ہے دانشوروں کو نجات، ہمارے بڑے بڑے نامور دانشور، لکھاری اور آگاہی رکھنے والوں میں سے کون ہے جو ایک عام غریب مفلس محروم کی زندگی بسر کرتا ہے بلکہ وہ بھی کسی فرعون، شداد، قارون کے لئے کام کر کے بہترین زندگی گزارتا ہے، کوئی بھی 3مرلے کے مکان میں نہیں رہتا، محل نہ سہی فارم ہائوس تو بنا لیتا ہے، بعض دانشور ایسے بھی ہیں جو من و سلویٰ کے دستر خوان پر بیٹھ کر کبھی کبھی مسور کی دال اور پیاز لہسن سے روٹی کھانے کا بھی ذکر کرتا ہے تاکہ من و سلویٰ کا مزا دوچند ہو۔ لفظ، فکر، دانش، آگاہی کے بھی بازار ہیں، انہیں بس چھابے میں رکھنے کی ضرورت ہے، پھر بیوپاری دام لگائیں گے اور جب قوم کی دانش بھی بک جائے گی تو بے عقلی کو روندنا کونسا مشکل کام، ایک زمانہ تھا جب بھی حشر نشر بپا ہوتا منبر و محراب سے آواز بلند ہوتی، خانقاہیں تھیں اس لئے تو ایک ہاتھ جہانگیر کے گریبان تک پہنچ گیا۔ امام ابو حنیفہؒ کو ہارون الرشید نے چیف جسٹس بنانا چاہا، انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے ڈر ہے کہ غلط فیصلے پر مجبور کیا جائے گا۔ بار بار کے اصرار اور ان کے انکار پر ہارون نے انہیں جیل میں ڈال دیا اور وہ وہیں انتقال کر گئے۔ اگر ہارون باور کرا دیتا کہ امام کو ہرگز مجبور نہیں کیا جائے گا تو وہ قبول کر لیتے۔ آج ختم نبوت کے معاملے پر منبر و محراب سے تگڑی آواز اٹھی تو حکومت نے ترمیم واپس لینے میں دیر نہیں لگائی۔ یہ ایک مثال ہے اگر اسی انداز میں ظلم و بربریت اور بدعنوانی کے خلاف بھی آواز اٹھتی تو آج یہاں سے کرپشن کو رخصت ہوئے نصف صدی ہو گئی ہوتی

No comments: