Wednesday, October 11, 2017

اکتوبر 2005 کا قبرستان اوربڑھیاکا دُکھ

آزاد کشمیر مظفرآباد پونچھ ڈیژن ، صوبہ خیبر پختونخواہ کے ہزارہ ڈویژن آٹھ اکتوبر 2005ء کی صبح 8بج کر 52منٹ پر چند ساعتوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے آزادی سے پہلے کے چند سال اور بعد کے ستر سال کم و بیش ایک صدی کی تعمیرات دیکھتے ہی دیکھتے ویرانے کا منظر پیش کر رہی تھیں جس میں سب سے بڑا نقصان یونیورسٹی کالجز سے لیکر سکولوں تک میں ہزاروں نوجوانوں سمیت معصوم بچے بچھڑ کر دار فانی سے اصل منزل کی جانب جا چکے تھے اور ان علاقوں آبادیوں میں جو لوگ بچ گئے تھے وہ سب ماسوائے کچھ لوگوں کے زندگی سے مایوس ہو کر بے جان جسم کی طرح ڈوبتے کو تنکے کے سہارے کی مانند خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکے تھے ۔ناجانے کب اگلے کسی زلزے کے جھٹکے میں ہم بھی مارے جائیں
امیر غریب قوم برادری کوٹھی محل گھر جھونپڑی مذہب مسلک عہدے منصب سب بے معنی ہو چکے تھے اور یہاں کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات نے بھی سارے حالات کا اظہار ایک جملے میں کر دیا ’’ میں قبرستان کا وزیر اعظم ہوں‘‘یہ جملہ سمندر نہیں بلکہ سمندروں کو ایک کوزے میں بند کرتے ہوئے حالات کا آئینہ دار تھا مگر ان کا کرب کیفیت وہی بیان کر سکتے تھے جو اس قبرستان میں زندہ بچ گئے تھے ۔قبرستان جہاں سب اپنے جان سے پیارے رشتے ناتوں دوستی عشق پیشواء جیسے لوگوں کو دفن کر کے آجاتے ہیں اور پھر زیادہ دیر اپنے ماں باپ اولاد کی قبروں پر بھی نہیں رہتے تو پھر جیتے جی قبرستان میں کون رہتا ہے؟۔
مدینہ کے انصار والے جذبے سے موجزن ملت پاکستان کے لوگوں کی امداد کے قافلے کے قافلے اور پاک افواج سمیت اداروں جماعتوں تنظیموں کے لوگ آکر شاہرات کو چلنے پھرنے کے لئے نہ کھولتے اور سر چھپانے سے لیکر ضروریات زندگی کی اشیاء کے ڈھیر نہ لگاتے تو نہ جانے کتنے عرصے تک ویران بستیوں کے سب ہی لوگ کوچ کر جاتے
جن کے پاس وسائل یا ملک پاکستان میں عزیز و اقارب تھے وہ سب اپنے گھر کاروبار چھوڑ کرچلے گئے اور جن کے پاس وسائل اسباب نہ تھے وہ یہاں ہی رہے مگر ریاست پاکستان اور ملت پاکستان نے انکو رب کے بعد اپنے وقت کا سب سے بڑا محسن ہوتے ہوئے زندگی کی طرف لوٹنے کی جانب جسم میں روح جیسا کردار ادا کیا جسکے ثمرات سے پہلے سے ہزاروں گنا زیادہ شاندار تعمیرات سہولیات کے نئے دور کا آغاز ہو گیا جسکا یہاں کے نظام سے منسلک کردار تعصبات حرص لالچ سے پاک ہو کر درست استعمال کرتے تو یقیناًیہ علاقے سوئزرلینڈ نہ ہوتے تو کم از کم برصغیر کے سب سے بہترین خطوں میں میں ضرور نمبر 1ہوتے ۔
اس وقت کے حکمران پرویز مشرف سے لیکر جو راتوں کو آکر یہاں رہا دن کو اپنے اور اداروں سمیت متحرک کردار ادا کیا ایک عام آدمی تک ملت پاکستان کو اس کا اجر صرف رب ہی عطا کر سکتا ہے مگر یہاں کی سبھی حکومتوں اداروں شعبوں کے افراد یہاں کے معاشرے کے ہی فرد ہیں اور بحیثیت معاشرہ سبھی افراد نے زلزلے سے پہلے والی اپنے خوبیوں میں اضافہ کیا خامیوں میں کمی لائی اور وہ سب بزرگ مرد عورت نوجوان معصوم بچے شہید ہو گئے تھے جنکی قربانی ناقابل تصور نئی زندگی اپنے رہے جانے والے لوگوں نئی نسلوں کیلئے شجر دار سایہ بن گئی انکے ساتھ انصاف کیا گیا ہے تو جواب میں شاید آٹے میں نمک کے برابر ہی لوگوں کا ضمیر کردار مطمین ہو گا
مجھے یاد ہے اسمبلی ہاسٹل آرمی کی ریلیف کیمپ میں موجودہ وزیر صنعت و تجارت محترمہ نورین عارف بھی اپنے لوگوں کو ریلیف خیمے دلانے کیلئے موجود تھیں جہاں کیمپ کے انچارج کرنل کے پاس ایک بوڑھی عورت آئی اور کہا کہ میری مدد کرو تو اسے بتایا گیا آپ کا کیا نقصان ہوا ہے خیمے تو ان کو دیتے ہیں جن کے گھر تباہ ہو گئے ہیں تو اس بزرگ خاتون نے اپنے پہاڑی زبان میں زلزلے سے شکوہ کیا بیڑا غرق ہو اس زلزلے کا اس نے بھی مجھے کچھ نہیں دیا ، میرا پہلے ہی گھر نہیں تھا ، تباہ کیسے ہوتا پہلے میرے پاس کچھ نہیں ہے تو نقصان کیا ہوتا ۔ افسوس اس جیسے کتنے ہی بزرگ کمزور لوگ اورخوددار گھرانے جن کے پاس پہلے ہی کچھ نہ تھا اور بعد میں بھی کچھ نہ رہا وہ جیسے تھے ویسے ہی رہے۔وہ سب شہداء جو قربان ہو گئے انکی روحیں اپنے بعد والوں کے رویوں طرز عمل سے خوش ہوں گی ۔ایسا لگتا ہے نہیں ہوں گی کیونکہ سماج (معاشرے) کی نا انصافیاں پہلے سے زیادہ بڑھی ہیں کم نہیں ہوئیں ہیں

0 comments: