Urdu Maktab

ہم اردو مکتب ڈوٹ کام پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں

Saturday, September 23, 2017

فضائی آلودگی

رسال ایک لاکھ35ہزار  پاکستانی فضائی آلودگی کے سبب موت کےگھاٹ اتر رہے ہیں

تصور کیجیے ایک ایسا شہر جو حسین ترین بلندوبالا عمارتوںاور عظیم الشان فلائی اوورز سے مزین ہو، چمکتی دمکتی گاڑیاں اور دن رات کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں ملک کی بے مثال ترقی کا نقشہ پیش کرتا ہو لیکن کسی سائنس فکشن اینی میشن کی طرح اس تصویر میں ایک غیرفطری فیکٹر نوٹ کیجیے کہ وہاں درخت کہیں نہ ہوں، چمکتی گاڑیوں کے ایگزاسٹ پائپوں سے نکلتا دیدہ یا نادیدہ دھواں آب و ہوا کو مسموم کرتا ہو، شہری علاقوں میں قدرتی حسن کو نگلتے کنکریٹ اسٹرکچرز اور فیکٹریوں کی چمنیاں شہر میں زہریلی ہوائیں چلاتی ہیں۔کتنا غیر فطری تصور ہے یہ، ہے نا؟یہ کیسی تعمیر ہے جس کی کوکھ سے تخریب جنم لے رہی ہے!

درخت قدرت کا انمول عطیہ جو ہمارے لیے قدرت کے پھیپھڑوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے پھیپھڑے خون میں سے فاسد، ضرر رساں گیسز مثلا کاربن ڈائی آکسائیڈ نکال کر سانس کے ذریعے جسم سے خارج کر دیتے ہیں جبکہ ہوا میں سے حیات بخش آکسیجن حاصل کر کے اسے خون میں شامل کر دیتے ہیں۔ اسی طرح جسم میں اچھی اور بُری گیسز کا تناسب درست مقدار میں برقرار رہتا ہے اور انسانی جسم اپنے افعال بخیر و خوبی سرانجام دیتے ہیں۔ قدرتی نظام کے پھیپھڑے درخت ہیں۔ درختوں کے سرسبز پتوں میں موجود کلوروفل (سبز رنگ کا نامیاتی مادہ) دھوپ کی موجودگی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سے آکسیجن تیار کرتا ہے اور فضا میں بکھیر دیتا ہے جبکہ آکسیجن کے بدلے یہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلی گیسز چوس لیتا ہے جسے یہ اپنی سانس اور خوراک کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اس طرح قدرت کے یہ پھیپھڑے کھلی فضا میں گیسز کے تناسب کو حیاتِ انسانی کے لیے مفید تناسب میں برقرار رکھتے ہیں۔ درخت ہوا میں نمی کا تناسب بڑھا کر درجہ حرارت کم کرتے ہیں اور بارش کے برسنے کا سبب بنتے ہیں جس سے فضا دھل کر صاف شفاف ہو جاتی ہے۔جیسے سگریٹ پیتے ہوئے یا دھویں سے بھری زہریلی فضا میں ہمارے پھیپھڑے کم کام کرنے لگتے ہیں، اسی طرح اگر ماحول میں گاڑیوں اور فیکٹریوں کے مقابلے میں درختوں کا تناسب کم ہوتا چلا جائے تو فضا میں گیسز کا تناسب بگڑ جائے گا۔ اس کے برعکسپاکستان میں کیا ہورہاہے؟ ملاحظہ فرمائیے۔

پچھلے کچھ برسوں میں لاہور کی تعمیر و ترقی کے نام پر ان گنت درخت کاٹ دیے گئے ہیں، ان درختوں کی ہریالی اور تازگی کو اسٹیل اور کنکریٹ کے جناتی سائز کے اسٹرکچرز سے تبدیل کر دیا گیا ۔ شہری تازہ ہوا اور دھوپ دونوں سے نہ صرف محروم ہوگئے ہیں بلکہ فضا کو صاف کرنے والے درختوں کی عدم موجودگی میں زہریلی گیسز کا تناسب بڑھ گیا ہے، آکسیجن کم ہو گئی ہے، زہریلی گیسز، گرد اور دھویں نے مل کر لاہور اور گرد و نواح پر زہریلی دھند کی چادر تان دی ہے۔ جسے سموگ (سموک +فوگ) کا نام دیا گیا ہے۔ باغات اور زندہ دلان کا شہر کہلانے والا لاہور اب اوور ہیڈ فلائی اوورز کے سائے میں گم ، پژمردہ بیماروں کا شہر بن چکا ہے۔ یہ سموگ پہلی چیز ہے۔ پوری دنیا میں میٹرو کو ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

اگر آپ لاہور میں ’ میٹرو بس سروس‘ چلنے کے بعد لوگوں کی صحت کی بابت اعدادوشمار جمع کریں گے تو آپ کو دھوپ کی محرومی سے وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں رکٹس(rickets ) میں مبتلا بچے اور جوڑوں،گردوں،سانس، جلدی بیماریوں اور کینسر کے مریضوں میں پچھلے برسوں کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی اور فضائی آلودگی نمونیا، تپ دق اور دمہ کے مریضوں میں بھی اضافہ کرے گی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ آرتھرائٹس اور بانجھ پن میں بھی اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ درختوں کی کمی، اسٹیل کنکریٹ اور شیشے سے بنے اسٹرکچرز میں اضافہ، گرمی میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ماہرین کے مطابق یہ گلوبل وارمنگ کا بہت بڑا فیکٹر ہے۔ماحولیاتی گرمی بڑھنے کے منطقی نتیجہ کے طور پر گاڑیوں اور گھروں میں ائیرکنڈیشنزکا استعمال بڑھے گا، جو کوروفلورو کاربنز کے فضا میں مزید اضافے کا باعث ہوگا، جس سے اوزون لئیر کو نقصان پہنچے گا۔ نتیجتاً انسانی صحت کے لیے مضر اثرات کی حامل شعائیں بلا روک ٹوک زمین تک پہنچنے لگیں گی۔ یعنی بظاہر ترقی نظر آنے والے عوامل قدرتی ماحول کی ’’تنزلی‘‘ (deterioration) کا باعث ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں ماحولیاتی آلودگی سے 55لاکھ افراد سالانہ ہلاک ہورہے ہیں۔سب سے زیادہ اموات چین اور بھارت میں ہورہی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمربچوں کی اموات کے اسباب کا جائزہ لیاجائے تو ہر چار میں سے ایک بچہ فضائی آلودگی کے سبب موت کے گھاٹ اتررہاہے۔ اس اعتبار سے ماحولیاتی آلودگی کے سبب مرنے والے بچوں کی سالانہ تعداد 17لاکھ بنتی ہے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایسی اموات کی تعداد ایک لاکھ35ہزار سالانہ 

No comments: