Urdu Maktab

ہم اردو مکتب ڈوٹ کام پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں

Sunday, September 1, 2013

موت کا فرشتہ

شام کے وقت ڈرائیور ایک خالی وین دوڑائے چلا جا رھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک بابا جی سواری کے انتظار میں کھڑے ہیں اچانک گاڑی کے ٹائر چرچرائے اور گاڑی آھستہ ھوتے ھوئے سڑک کے ایک طرف کھڑی ھو چکی تھی.. بابا جی آگے بڑھے اور وین کا دروازہ کھول کر ڈرائیور سے پچھلی سیٹ پر آبیٹھے…
“کہاں جانا ھے آپ کو بابا جی؟“ ڈرائیور نے گاڑی دوڑاتے ھوئے سوال کیا۔
“مجھے کہیں نہیں جانا ھے… صرف آپ کے پاس بھیجا گیا ھے مجھے…. میں موت کا فرشتہ ھوں…“
“ہاہاہا… خوب مذاق کرتے ھیں آپ بھی بابا جی۔“ ڈرائیور نے قہقہہ لگایا…
تھوڑی دیر بعد ڈرائیور کو سڑک کے کنارے دو عورتیں کھڑی نظر آئیں۔ ایک نے وین کو رکنے کا اشارہ کیا۔ ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔ وہ خوش تھا کہ چلو گھر جاتے ھوئے کچھ پیسے بن جائیں گے… اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو عورتیں بابا جی سے پچھلی سیٹ پر جا بیٹھیں…

باجی! کہاں جانا ھے آپ کو؟“ ڈرائیور نے سٹیرنگ سنبھالتے ھوئے کہا۔۔
“ہمیں حیات نگر جانا ھے“ ایک عورت نے جواب دیا…
ٹھیک ھے باجی… اور بابا جی اب آپ بھی بتا ھی دیں کہ آپ کو کہاں جانا ھے“ ڈرائیور نے گاڑی چلاتے ہوئے کہا..
“میں آپ کو بتا تو چکا ھوں کہ میں موت کا فرشتہ ھوں… عزرائیل… اور یہ کہ تمھاری موت گاڑی میں لکھی ھوئی ھے… مجھے اور کہیں نھیں جانا۔“
“ہاہاہاہا… ویگن میں ایک بار پھر قہقہہ بلند ھوا… “سنو سنو باجی! یہ بابا جی کہتے ھیں کہ میں موت کا فرشتہ ھوں… 

 ڈرائیور نے خواتین کو مخاطب کر کے قہقہہ لگایا اور گاڑی مزید تیز کردی۔
“موت کا فرشتہ؟ بابا جی؟ کون بابا؟ کون موت کا فرشتہ؟ یہاں تو کوئی بھی نھیں ھے۔۔۔“ عورتوں نے حیرت سے جواب دیا۔۔
“ آپ دیکھو تو سہی… میرے پیچھے جو سفید کپڑے پہنے بابا جی بیٹھے ھیں… آپ سے اگلی سیٹ پر“ ڈرائیور نے دھیان سے گاڑی چلاتے ھوئے کہا…
“ نہیں تو ادھر تو کوئی بابا جی نہیں ہے….. آپ مذاق کر رہے ھیں…“ عورتوں نے کہا تو ڈرائیور کا رنگ فق ھو گیا
اس نے گاڑی روک دی… اب جو چپکے سے پیچھے دیکھا تو بزرگ کی آنکھوں سے وحشت ٹپک رھی تھی… جب کہ دونوں عورتیں بےنیاز ھو کر اپنی باتوں میں مگن تھیں… ڈرائیور خوفزدہ ھو گیا اور ڈر کے مارے کانپنے لگا…

“تیری موت اسی گاڑی میں لکھی ھوئی تھی… اب وقت آن پہنچا ہے…“
موت کے فرشتے نے سرد لہجے میں کہا اور ڈرائیور کی طرف اپنا بھاری بھرکم ھاتھ بڑھا دیا… گاڑی میں ایک زوردار چیخ بلند ھوئی… ڈرائیور نے گاڑی کا دروازہ کھولا قریبی کھیتوں میں جاتی ھوئی پگڈنڈی پر دوڑ لگادی…
دوڑتے ھوئے اچانک اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو موت کا جعلی فرشتہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گاڑی بھگا کے لے جا رھا تھا، جب کہ پیچھے بیٹھی خواتین کے قہقہے بلند ھو رہے تھے… اور ساتھ ھی وکٹری کی علامت بنائی جارھی تھی… ڈرائیور اب موت کے فرشتے کی ساری حقیقت سمجھ چکا تھا…. بےچارا سڑک کے کنارے خالی ھاتھ مل رھا تھا…

No comments: