Monday, October 16, 2017

سیلفی جنون

موبائل کی سکرین آن کرتے ہی فیس بک سمیت کوئی بھی سوشل میڈیا دیکھیں تو سب پر سیلفی کا جنون چڑھا نظر آتا ہے۔ عیدالاضحی کی مناسب سے صرف دو روز قبل لوگ قربانی کیلئے خریدے گئے جانوروں کیساتھ سیلفیاں بنا رہے تھے لیکن اب وہی افراد ان ہی جانوروں کی اتری ہوئی کھال اور ان کے گوشت سے بنی تکہ بوٹی کھاتے سیلفیاں بنا رہے ہیں۔

سیلفی جنون حج کی سعادت حاصل کرنے والے بہت سے افراد پر بھی چڑھا ہے جو خانہ کعبہ کے سامنے اور روضہ رسولﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر سیلفی بناتے ہیں اور وہاں موجود اسلامی یادگاروں کے ساتھ بھی سیلفی لینا نہیں بھولتے تاکہ جب وہ وطن واپس لوٹ جائیں تو ان تصاویر کے سہارے ماضی کو یاد کر سکیں۔
اس مرتبہ ایک ”حاجی صاحب“ نے سال کی سب سے بہترین سیلفی بنانے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے اور ایسا کام کرتے ہوئے سیلفی بنائی ہے جو آج تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ یہ حاجی صاحب فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران جب شیطان کو کنکریاں مارنے پہنچے تو اس موقع پر سیلفی بنانا بھی ضروری سمجھا۔

بس پھر کیا تھا، ایک ہاتھ میں سمارٹ فون تھاما اور دوسرے میں کنکر پکڑ کر شیطان کو مارنے کا سٹائل بنایا اور ”کڑچ“ کر کے سیلفی بنا لی۔ ان کے اس انداز میں سیلفی لیتے ہوئے وہاں موجود ایک اور نامعلوم شخص نے تصویر بنا لی جو سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی ہے اور ہر کوئی ”حاجی صاحب“ کے اس سٹائل پر ’فدا‘ نظر آ رہا ہے۔

جانئے اپنے اے ٹی ایم کارڈ کے بارے میں خفیہ معلومات

 بینک کارڈز کا روز مرہ زندگی میں استعمال عام ہے
 بلوں کی ادائیگی ہویا اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکالنے ہوں، عموماً بینک کارڈز کا استعمال ہی کیا جاتا ہے لیکن  بہت کم لوگ اے ٹی ایم کارڈز کے راز جانتے ہیں۔


  کارڈ پر درج نمبرز: 
اکثر بینک کارڈز 16ہندسوں پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن بعض کارڈز پر 19 عدد بھی ہوتے ہیں۔ اس میں سب سے پہلا نمبر کارڈ کی شناخت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر کارڈ پر لکھا پہلا نمبر 4 ہے تو اس کا مطلب یہ ویزا کارڈ ہے اور اگر 5 نمبر لکھا تو یہ ماسٹر کارڈ کی پہچان ہے۔ اگلے 5 نمبرز متعلقہ بینک کو ظاہر کرتا ہے جب کہ آگے 9 نمبرز بینک اکاونٹ کے بارے میں ہیں جو کہ بینک کارڈ کا اجرا کرتا ہے۔ یہ 9نمبرز دراصل بینک حاصل کردہ کارڈ کے مالک کی شناخت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بینک کارڈز کواسی طرح محفوظ بنایا گیا ہے جس طرح کرنسی نوٹوں کے اصلی  ہونے کی کچھ مخصوص علامات  رکھی جاتی ہیں۔ ویزا کارڈ پر الٹرا وائلٹ روشنی پرمبنی “V” دکھائی دیتا ہے جب کہ ماسٹرکارڈ پر”M”اور امریکی کارڈ پر چیل بنی نظر آتی ہے۔ 

بینک کارڈ کے پچھلے حصے میں 3 ہندسوں کا ایک سیکورٹی کوڈ درج ہوتا ہے۔ CVV کوڈ VISA کارڈ کے لیے ہے جب کہ CVC کوڈ MASTER کارڈ کے لیے ہوتا ہے۔ ان دونوں کارڈز میں CV کا مطلب CARD VERIFICATION ہے۔ یہ کوڈ کارڈ کی تصدیق کے لیے استعمال ہوتا ہے۔


بینک کارڈز استعمال کرنے کی احتیاطی تدابیر:
اگر آپ انٹرنیٹ سے آن لائن کوئی چیز خرید رہے ہیں تو یہ بات لازماً مدنظر رکھیں کہ متعلقہ ویب سائٹ محفوظ ہے۔ ویب سائٹ کے ایڈریس سے پہلے https لکھا نظر آئے تو یہ محفوظ ویب سائٹ کی پہچان ہے۔
ہمیشہ اپنے کارڈ کی حساس معلومات کو یاد رکھیں، مثلاً PIN اورCVV نمبرز ذہن نشین کرلیں۔ کسی غیر بھروسہ مند شخص کو اپنا کارڈ نہ دیں خصوصاً عوامی مقامات پر کارڈ کے نمبرز پر گفتگو سے گریز کریں۔
اگر آپ پیسے نکالنے کے لیے اے اٹی ایم مشین کا رخ کریں تو اس بات اطیمنان کرلیں کہ مشین کے کی بورڈ پر اضافی کیمرے یا اس جیسا کچھ اور تو موجود نہیں جو آپ کا پن کوڈ چوری کرنے کا سبب بن جائے۔

جو بچے ٹیلبٹس اور دیگر آلات استعمال کرتے ہیں وہ زیادہ قابل ہوتے ہیں؟

 ایک رپورٹ کے مطابق بچوں کا موبائل آلات استعمال کرنا ان کی ٹیکنالوجی کی اہم صلاحیتوں کے حصول میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
آسٹریلیا کے ایک تعلیمی ادارے نے کہا ہے کہ سنہ 2011 کے بعد آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے والے ایسے طلبہ میں بڑے پیمانے پر زوال دیکھا گیا ہے۔
’کمپیوٹر سے طالب علموں کی کارکردگی میں بہتری نہیں آتی‘
اس کی رپورٹ کے مطابق کام کی جگہوں پر درکار ٹیکنالوجی کی صلاحیت کی نسبت بچے ٹیبلٹس اور سمارٹ فونز پر مختلف نوعیت کی مہارت حاصل کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے سکولوں میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی جس طرز پر پڑھائی جاتی تھی اس میں کی جانی والی تبدیلیاں اس زوال کو بہتر طور پر واضح کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لوگوں کے زیرِ استعمال آلات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی اس کی ایک وجہ ہیں۔
آسٹریلیا کے نیشنل اسیسمنٹ پروگرام کے تحت بچوں کے مختلف گروہوں میں ٹیکنالوجی کی تعلیم کو جانچا گیا۔
ایک گروہ پرائمری سکول سے نکلنے والا تھا جبکہ دوسرا اپنے سیکینڈری سکول کے چوتھے سال میں تھا۔ اس مطالعے میں ساڑھے دس ہزار بچوں نے حصہ لیا۔

اس مطالعے میں سنہ 2011 اور سنہ 2014 کے دوران طلبہ کی ڈجیٹل تعلیم کا تقابل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق: ’جب پچھلے دور کے بچوں کے ساتھ موازنہ کیا گیا تو آئی سی ٹی کی تعلیمی کارکردگی میں بڑے پیمانے پر زوال دیکھا گیا۔‘
اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2014 کے گروہ میں میں شامل 16 برس کی عمر کے طلبہ کی کارکردگی کسی بھی پچھلے گروہ سے کم تھی۔
رپورٹ کے مطابق کارکردگی میں یہ زوال پریشان کن ہے اور انتہائی توجہ چاہتا ہے۔

امتحان کے دوران طلبہ نے زیادہ سے زیادہ موبائل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا اس کا مطلب ہے کہ وہ آئی سی ٹی کی تعلیم کے مطابق صلاحیتوں کا استعمال کم سے کم کر رہے ہیں۔
اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ جو بچے ٹیلبٹس اور دیگر آلات استعمال کرتے ہیں وہ زیادہ قابل ہیں۔

Friday, October 13, 2017

دوسرے لوگوں کو اپنی طرف باآسانی قائل کرنے کے 12راز

ذیل میں ایسی 12 خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے جو دوسروں پر اثر انداز ہونے والے یا بآسانی قائل کرنے والے افراد کی زندگی کا جزو ہوتی ہیں۔
1۔اپنی آڈئینس کو پہچانیںمؤثر افراد اپنی آڈئینس (مخاطب) کو داخلی اور خارجی دونوں طرح سے جانتے ہیں اور اس کی مناسبت سے وہ انہیں کی زبان میں باتیں کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص شرمیلا ہے تو اس سے نرم لہجے میں بات کرنی ہے اور اگر کسی کا لہجہ جارحانہ ہے تو اسے دوسرے انداز سے نپٹنا ہے۔ زندگی میں مختلف طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ مؤثر افراد اس فرق کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر کسی سے ایک ہی طرح کا برتاؤ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کرنے کے لیے بہت زیادہ سماجی اور شخصی جانکاری درکار ہوتی ہے جو مؤثر افراد میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔2۔ تعلق قائم کرناجب کسی کو احساس ہو جائے کہ آپ کیسے انسان ہیں تو قبولیت کا درجہ بڑھ جاتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی ایک تحقیق میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے طلبا سے کہا گیا کہ وہ اپنی جماعت میں کسی معاملے پر اتفاق رائے پر پہنچیں۔ ہدایات کے بغیر 55 فیصد کا اتفاق رائے ہو گیا، لیکن جب اتفاق رائے پر پہنچنے سے قبل طلبہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنا تعارف کروائیں اور اپنے پسِ منظر کے بارے میں بتائیں تو اس کے بعد 90 فیصد طلبہ اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جس سے آپ بات کر رہے ہیں وہ آ پ کا دشمن یا ہدف نہیں ہے اور بحث میں زیادہ الجھنا بھی نہیں چاہیے، بے شک آپ کے پاس مضبوط دلائل ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر آپ اس شخص کی سطح پر آ کر اور اسے سمجھ کر تعلق اور رابطہ قائم نہیں کریں گے تو وہ آپ کی نہیں مانے گا یا آپ کے کہے کو مشکوک سمجھے گا۔3۔ زیادہ دباؤ نہیں ڈالتےمؤثر افراد اپنے خیالات کا اظہار اعتماد کے ساتھ اور کھل کر کرتے ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ جارحانہ انداز اختیار نہیں کرتے یا بہت زیادہ دباؤ نہیں ڈالتے۔ مؤثر افراد اپنے مؤقف پر بہت زیادہ اصرار نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دوسروں کے قائل ہونے میں وقت بھی لگ سکتا ہے۔ وہ بے صبرے نہیں ہوتے اور مستقل مزاج رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ان کے خیالات افضل ہیں تو بالآخر لوگ انہیں اختیار کرلیں گے۔4۔ اعتمادی کی کمی نہ ہونااگر اپنے خیالات کو اس انداز میں پیش کیا جائے جیسے دوسرے سے قبولیت کی سند مانگی جا رہی ہے یا جیسے ان میں کوئی خامی موجود ہے تو دوسرا انہیں سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ دوسروں کو اپنے خیالات یوں بتانے چاہئیں جیسے انہیں سوچ سمجھ کر تشکیل دیا گیا ہے۔ جب مقصد دوسرے کو قائل کرنا ہو تو اس میں آئیں بائیں شائیں نہیں چلتی، اور یہ بھی نہیں کہ “ہو سکتا ہے میں غلط ہوں”۔5۔ باڈی لینگوئج کو مثبت رکھیںانداز بیاں، آواز اور جسمانی حرکات میں توازن دوسروں کو قائل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ گفتار میں گرم جوشی اور دوسرے پر توجہ کا اظہار مثبت باڈی لینگوئج کی علامات ہیں۔ اس سے دوسرے آپ کی جانب راغب ہوتے ہیں۔ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ بھی اتنا اہم ہے جتنا یہ کہ آپ اسے کس انداز میں کہہ رہے ہیں۔6۔ واضح اور جامع ہونامؤثر افراد اپنے خیالات کا اظہار بروقت، جلد اور واضح انداز سے کر سکتے ہیں۔ جب آپ کی اپنے خیالات اور گفتار پر گرفت مضبوط ہوتی ہے تو اسے دوسروں کے اذہان میں راسخ کرنا آسان ہوتا ہے۔ بہتر حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ جس موضوع پر قائل کرنا ہو اسے خود اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ جعل سازی نہیں ہوتےمؤثر ہونے کے لیے ایماندار ہونا شرط ہے۔ جعل ساز کو پسند نہیں کیا جاتا۔ متاثر ہونا تو دور کی بات جعل ساز کی باتوں پر بہت کم اعتبار کیا جاتا ہے۔ مؤثر افراد جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں۔ ان میں مصنوعی پن نہیں ہوتا۔ وہ اپنے ہنر سے آگاہ ہوتے ہیں۔ وہ اس امر کی پروا کم کرتے ہیں کہ دوسرے انہیں کیسا دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ اپنے بارے فیصلہ وہ خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کے لیے خود کو غیر ضروری اور غیر معمولی حد تک بدلنے کے جتن نہیں کرتے۔8۔ دوسروں کے مؤقف کو سمجھنامؤثر افراد کی ایک اہم خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی غلطی یا اپنے دلائل میں پائی جانے والی خامیوں کو مان لیتے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے مالک ہیں۔ وہ دوسروں کی مضبوط دلیل سے انکار نہیں کرتے اور اس معاملے میں ہٹ دھرم نہیں ہوتے۔ وہ دوسروں کو بات کرنے کا موقع دیتے ہیں اور اختلاف کرنے پر ان کا رویہ توہین آمیز نہیں ہوتا۔9۔ اچھے سوالات پوچھنالوگوں کی بڑی خامی یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کی بات کو کم سنتے ہیں بلکہ اس دوران غور کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے کیا جواب دینا ہے۔ تاہم دوسرے چاہتے ہیں کہ ان کی بات کو غور سے سنا جائے۔
اگر انہیں یہ احساس ہو کہ دوسرا توجہ ہی نہیں دے رہا تووہ برا ماننے کے ساتھ ساتھ دوسرے کی بات پر توجہ بھی کم کردیتے ہیں۔ یوں ان کا اثر قبول کرنے یا ان سے قائل ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔10۔ تصویر کشی کرنامؤثر افراد اس انداز میں گفتگو کرتے ہیں کہ جس سے صورت حال کا نقشہ دوسرے کے ذہن میں بن جاتا ہے۔ وہ دوسروں کی تصوراتی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہیں۔11۔ پہلا بھرپور تاثر قائم کرنا ملاقاتوں کے دوران ابتدا میں قائم ہونے والا تاثر تا دیر برقرار رہتا ہے۔ مؤثر افراد اس حقیقت پر توجہ دیتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر دوسروں کو قائل کرنے میں کامیاب ہونے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ پہلی ملاقات میں چہرے پر خوشگوار مسکراہٹ کا ہونا، گرم جوش مصافحہ اور گفتار میں سلیقہ جو تاثر قائم کرتا ہے وہ دیر سے جاتا ہے۔12۔ مستقل مزاجی مؤثر افراد مستقل مزاج ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کہاں اپنے مؤقف کا دفاع کرنا ہے اور کہاں قدم پیچھے ہٹانا ہے۔لیکن وہ اپنے نصب العین سے منہ نہیں موڑتے۔ ان کی نظر راستے کی دشواریوں کے ساتھ ساتھ مسلسل اپنے حتمی مقصد پر ہوتی ہے

Thursday, October 12, 2017

رامیس دوم

تین ہزار سال پہلے کی بات ہے مصر کی سرزمین میں ایک حکمران ’’رامیسس دوم‘‘ کی حکومت تھی ۔کہتے ہیں کہ وہ چند معاملات میں بہت سخت تھا ۔ایک یہ کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قانون پر سختی سے عمل درآمد کرتا تھا اور اپنے انتہائی عزیز شخص کو بھی معاف نہیں کرتا تھا۔اس کی دوسری عادت یہ تھی کہ بیت الخلاء کے لیے انتہائی پردوں کا انتظام کرتا تھا اور اپنی داڑھی کا بہت خیال رکھتا تھا ۔ ’’رامیسس دوم‘‘ کامیاب حکمرانی کر رہا تھا ۔پوری سلطنت پر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی باوجود اس کے کہ اس نے اپنی حکومت میں بہت سارے ظالمانہ قانون رائج کیے ہوئے تھے لیکن اس کا ظلم ابھی انتہا کو نہیں پہنچا تھا۔ایک دن نجومیوں نے اسے بتایا کہ یہ سال تمہارے لیے بہت برا ہے کیوں کہ اس سال ایک لڑکا ایسا پیدا ہو گا جو تمہاری سلطنت کو تباہ و برباد کر دے گا ۔
’’رامیسس دوم‘‘ نے یہ’’ آکاش وانی‘‘ ملتے ہی اپنی پارلیمنٹ کا فوری اجلاس بلایا کہ کوئی تدبیر نکالی جائے ،ماہرین سیاست و معیشت و معاشرت سر جوڑ کر بیٹھ گئے ۔مختلف مشورے ہوئے ۔کئی اجلاس ہوئے پھر ان ماہرین فہم و فراست نے ایک قانون بنایا جسے تاریخ انسانیت کا سب سے مکروہ قانون کہا جاتا ہے وہ قانون یہ تھاکہ اس سال پیدا ہونے والے تمام بچے قتل کر دیے جائیں ۔اس قانون کے تمام مثبت اور منفی پہلو دیکھے گئے پوری جانچ پٹخ کی گئی اور ’’رامیسس دوم‘‘ کا ظلم اپنی انتہا کو پہنچ کر اس قانون کی صورت میں رائج کر دیا گیا ۔پھر سورج کی آنکھ نے سیکڑوں معصوموں کی گردنوں پر چھریاں پھرتے ہوئے دیکھیں ،اس سال پیدا ہونے والا ہر لال ماوں کے سامنے ذبح کر دیا گیا۔ہم اس حکمران کو فرعون کے نام سے جانتے ہیں ،جب بھی اس کا نام آتا ہے ہم اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔لیکن قانون اسے نہ بچا سکا وہ حکمران غرق ہو گیا ۔نہ اس کی سلطنت بھی باقی رہی ،نہ ہی وہ پارلیمنٹ رہی جس نے وہ قانون بنایا تھا نہ ہی وہ وزیر ومشیر باقی رہے ۔خود ’’رامیسس دوم‘‘کا جسم دنیا کے لیے عبرت کی جولانگاہ بنا ہوا ہے ۔لیکن اس کا بنایا ہوا کا قانون رہتی دنیا تک ہمیشہ ملعون و مطعون رہے گا۔
مورخ جب بھی انسانیت کے سب سے برے حکمرانوں کی فہرست بنائے گا تو ’’رامیسس دوم‘‘ کا نام فہرست میں سب سے اوپر ہو گا ۔

میں اعتراف کرتا ہوں

کوئی دس برس پرانی بات ہے، امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں لیڈر شپ کے موضوع پر لیکچر سننے کا اتفاق ہوا، لیکچر دینے والے اُس امریکی پروفیسر کا نام تو اب مجھے یاد نہیں مگر اس کی شخصیت خاصی بھاری بھرکم تھی، قد چھ فٹ تھا مگر دیکھنے میں سات فٹ کا لگتا تھا، رنگ گورا، آنکھوں پر سنہری فریم کا چشمہ اور چہرے پر بچوں کی سی معصومیت۔ ڈیڑھ گھنٹے کا یہ واحد لیکچر تھا جس کے دوران مجھے نیند نہیں آئی، پروفیسر نے کچھ اس طرح ہمیں اپنی گفتگو کے سحر میں مبتلا کیا کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ اُس لیکچر کی ایک بات مجھے آج تک نہیں بھولتی کہ پروفیسر اپنی تمام تر قابلیت اور علمیت کے باوجود چند فقرے دہراتا رہا کہ ’’ممکن ہے میں غلط ہوں۔ ہو سکتا ہے آپ میرے نظریات سے اختلاف کریں۔ میری رائے میں یہ بات درست نہیں مگر آپ کی رائے کا میں احترام کرتا ہوں!‘‘ مگر دوسری طرف مجھ ایسے شرکاء جب سوال کرتے تو ہماری بات عموماً اِس جملے سے شروع ہوتی کہ ’’آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ میں یقین سے یہ بات کہہ سکتا ہوں۔ مجھے اپنی کہی ہوئی بات کے بارے میں رتی برابر بھی شبہ نہیں!‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے اس ڈنگر پن سے پروفیسر بہت متاثر ہوا اور لیکچر کے اختتام پر اُس نے کہا کہ میرے لئے یہ بات ناقابل یقین ہے کہ آپ لوگ اپنے نظریات میں اس قدر راسخ ہیں، کاش میرے پاس بھی اتنا علم ہوتا کہ میں حتمی طور پر کوئی رائے قائم کرسکتا۔ اُس وقت ہم سمجھے کہ امریکی کو پچھاڑ لیا ہے مگر تھوڑی دیر بعد (کم از کم مجھے) احساس ہوا کہ کچھ ’’بزتی‘‘ ہو گئی ہے۔ امریکی پروفیسر کی بات دل میں کُھب گئی، غیر محسوس طریقے سے اُس مرد عاقل نے ہمیں احساس دلایا کہ جن نظریات کے بارے میں آپ اس قدر حتمی انداز میں گفتگو کر رہے ہیں، عین ممکن ہے کہ وہ غلط ہوں؟ ہماری رائے کی بنیاد جن معلومات پر ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ معلومات ہی سرے سے ناقص ہوں؟ اور بحث کے دوران غراتے ہوئے جو دلائل ہم دیتے ہیں، اس کا امکان ہے کہ اُس سے زیادہ وزنی دلائل مدمقابل کے پاس ہوں جنہیں ہم سننا ہی نہیں چاہتے؟
بطور پاکستانی ہم ایک ایسی زرخیز قوم ہیں جس کا دودھ پیتا بچہ بھی عالمی معاملات میں دوٹوک رائے رکھتا ہے۔ ثبوت کے طور پر اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں۔ قومی اور بین الاقوامی معاملات پر ایسا ایسا شاہکار پڑھنے کو ملتا ہے کہ روح سرشار ہو جاتی ہے، لکھاری چاہے زندگی میں چونیاں سے آگے نہ گیا ہو مگر اپنا مضمون یوں شروع کرے گا کہ ’’ٹرمپ کی حالیہ پالیسی کے بعد یہ بات عیاں ہو گئی ہے کہ امریکہ اب پاکستان کے مقابلے میں افغانستان کو خطے میں زیادہ اہمیت دیتا ہے، دراصل یہ ہماری تزویراتی پالیسی کی غلطی ہے کہ ہم افغانستان میں ٹماٹر اگاتے رہے جبکہ ہمیں وہاں گاجریں کاشت کرنی چاہئے تھیں۔۔۔!‘‘ ایسے لکھاری بھی ہیں جو گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے ہیں مگر اُن کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ وہ قطعیت کے ساتھ ایسے بات کرتے ہیں گویا ان کا تجزیہ حرف آخر ہے۔ ٹاک شوز کی بھی یہی کہانی، ایسی قطعیت کے ساتھ ہمارے دانشور گفتگو کرتے ہیں جیسے سات سمندرو ں کا علم گھول کر پی چکے ہوں، یقیناً ایسا ہی ہوگا اور شاید اسی لئے اُن میں سے کچھ کو قابلیت کا ہیضہ ہو چکا ہے۔ میں نے آج تک کسی اخبار میں نہیں پڑھا اور کسی ٹاک شو میں نہیں سنا کہ کوئی کہے کہ فلاں معاملے پر میں نے پہلے جو رائے دی تھی وہ غلط تھی، میرے سامنے کچھ مزید حقائق آ گئے ہیں سو اب میں اپنی رائے تبدیل کرتا ہوں حتیٰ کہ وہ لوگ جو اپنی پارٹی بدل لیتے ہیں، وہ بھی یہ بات کہنے کی ہمت نہیں کرتے بلکہ الٹا دو متضاد باتوں کا جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں کہ پہلے بھی میں ٹھیک تھا، اب بھی میں ہی ٹھیک ہوں۔ گویا جیسے پیدا ہوئے ویسے ہی فوت ہوں گے۔ لیکن کسی سے کیا گلہ کرے کوئی، یہاں تو آپ راہ چلتے کسی تانگے والے کو روک کر اورنج ٹرین کے بارے میں پوچھیں تو وہ بھی پوری قطعیت کے ساتھ آپ کو بتائے گا کہ کہاں سے اورنج ٹرین زمین دوز گزرنی چاہئے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے نظریات اس قدر راسخ ہیں، کیوں ہم کبھی اپنی غلطی ماننے پر آمادہ نہیں ہوتے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی شخص کے تمام افکار اول و آخر درست ہوں؟ اس رویے کی وجوہات خاصی دلچسپ ہیں۔ ہم یہ ماننے میں ہتک محسوس کرتے ہیں کہ ایک سال پہلے جس شدو مد کے ساتھ ہم جو بات کرتے تھے آج کس منہ سے اُس بات کی نفی کر دیں، ہمیں اس میں اپنی بے عزتی محسوس ہوتی ہے، ہمارا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے لوگوں کی نظروں میں ہماری عزت گھٹ جائے گی۔ اِس رویے کا سادہ سا حل یہ ہے کہ جس منہ سے آپ غلط بات کرتے تھے اسی منہ سے اگر آپ درست بات کریں گے تو اس میں آپ کی ہتک نہیں ہوگی بلکہ علم دوست لوگوں میں عزت بڑھے گی۔ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ ہم ایسے کسی برملا اعتراف کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں کیونکہ ایک موضوع پر ہم اس قطعیت کے ساتھ گفتگو کر چکے ہوتے ہیں کہ اس سے واپسی کا راستہ ہمیں اپنی دانشوری کی توہین لگتا ہے۔ ہم یہ ماننے میں بھی اپنی ذلت محسوس کرتے ہیں کہ جن نظریات پر ہمارے بڑے بوڑھے کاربند تھے اور جنہیں بعد میں ہم نے پورے یقین سے اپنایا، وہ کیسے غلط ہو سکتے ہیں کیونکہ اگر وہ غلط ہیں تو اس کا مطلب ہماری نسل کی توہین ہے اور یہ ہمیں منظور نہیں۔ ہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر ان پرانے اور روایتی نظریات کے باغی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر اُن کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ جن نئے نظریات کا وہ پرچار کرتے ہیں ان کے معاملے میں بھی اسی طرح کا سخت گیر رویہ اپنا لیتے ہیں جس سے اُن کی بغاوت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
بات کہیں دور نہ نکل جائے سو واپس آتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ جن افکار کو آج میں درست سمجھتا ہوں عین ممکن ہے کل کو مجھے ان کی نفی میں کوئی بڑی دلیل مل جائے یا اس کا بھی امکان ہے کہ آج جس نظریے کا میں پرچارک ہوں وہی غلط ہو۔ اب کیا کیا جائے؟ ایک طریقہ تو وہی ہے جو اُس امریکی نے سکھایا کہ کوئی بھی بات کرنے سے پہلے ذہن میں سوچ لیں کہ آپ کی رائے غلط ہو سکتی ہے اور آپ کے مخالف کی درست، سو اگر آپ کھلے ذہن کے مالک ہیں، سوجھ بوجھ رکھتے ہیں اور دماغ کی کھڑکیاں بند نہیں تو آپ کو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کہاں صحیح اور کہاں غلط تھے۔ اصل بات مگر اس بات کا اظہار کرنا اور اعتراف کرنا ہے کہ آپ کے نظریات میں تبدیلی واقع ہوئی ہے، اپنی زندگی کی سمت درست کرنے کے لئے یہ ادراک بہت ضروری ہے۔ فرد کی طرح قومیں بھی اکثر غلط سمت کا تعین کرتی ہیں مگر احساس ہو جانے پر رجوع کرلیتی ہیں۔ بدنصیب ہے وہ قوم جو تاریخ میں غلط سمت کا انتخاب کرتی ہے، ہزیمت اٹھاتی ہے مگر اس کے باوجود اسے اپنی سمت درست کرنے کا ادراک نہیں ہوتا

کاش وہ دن لوٹ آئیں !

دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا تھا۔ فوٹو: فائل
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب:
٭ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھا، اور اگر بتاتا تو باپ اْسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا ۔
٭یہ وہ دور تھا جب ’’اکیڈمی‘‘کا کوئی تصّور نہ تھا اور ٹیوشن پڑھنے والے بچے نکمے شمار ہوتے تھے۔
٭بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے بھائیوں کے استعمال میں آتے تھے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔
٭لڑائی کے موقع پر کوئی ہتھیار نہیں نکالتا تھا، صرف اتنا کہنا کافی ہوتا ’’ میں تمہارے ابا جی سے شکایت کروں گا۔‘‘ یہ سنتے ہی اکثر مخالف فریق کا خون خشک ہوجاتا تھا۔
٭اْس وقت کے اباجی بھی کمال کے تھے، صبح سویرے فجر کے وقت کڑکدار آواز میں سب کو نماز کے لیے اٹھا دیا کرتے تھے۔بے طلب عبادتیں کرنا ہر گھرکا معمول تھا۔
٭کسی گھر میں مہمان آجاتا تو اِردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نظروں سے اْس گھر کودیکھنے لگتے اور فرمائشیں کی جاتیں کہ ’’ مہمانوں ‘‘ کو ہمارے گھر بھی لے کرآئیں۔جس گھر میں مہمان آتا تھا وہاں پیٹی میں رکھے، فینائل کی خوشبو میںلبے بستر نکالے جاتے ۔ خوش آمدید اور شعروں کی کڑھائی والے تکئے رکھے جاتے ۔ مہمان کے لیے دھلا ہوا تولیہ لٹکایا جاتااورغسل خانے میں نئے صابن کی ٹکیا رکھی جاتی تھی۔
٭جس دن مہمان نے رخصت ہونا ہوتا تھا، سارے گھر والوں کی آنکھوں میں اداسی کے آنسو ہوتے تھے۔ مہمان جاتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کی کوشش کرتا تو پورا گھر اس پر احتجاج کرتے ہوئے نوٹ واپس کرنے میں لگ جاتا ، تاہم مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔
٭شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا۔ شادی غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا۔ جس گھر میں شادی ہوتی تھی اْن کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے۔ محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا۔
٭کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی، کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے، سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا، سب کے دْکھ ایک جیسے تھے ۔
٭نہ کوئی غریب تھا نہ کوئی امیر ، سب خوشحال تھے۔ کسی کسی گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور سارے محلے کے بچے وہیں جاکر ڈرامے دیکھتے تھے۔
٭دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا۔
…کاش پھر وہ دن لوٹ آئیں۔

گل بابونہ کا جوشاندہ ، ڈپریشن اور گیس کا حیرت انگیز علاج

ایک امریکن وزیٹر نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا کبھی آپ لوگ chamomile کا قہوہ پیتے ہیں۔میں نے اسے دلچسپ بات بتائی کہ ہمارے ہاں دیسی طبی علاج میں chamomile جوکہ بابونہ کے نام سے معروف ہے صدیوں سے استعمال ہورہی ہے۔وہ اس بات پر حیران ہوااور کہا کہ آپ کی طب تو پھر کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔میں اسے کیا بتاتا کہ ہمارے ہاں تو طب کے ساتھ سوتیلی ماں سے بھی بدتر سلوک ہوتا ہے۔بہرحال سن لیجئے کہ ایسے امریکی جنہیں نیند کا مسئلہ ہو اور انہیں پیٹ میں گیس کی شکایت رہتی ہوتو وہ بابونہ کا جوشاندہ بڑے شوق سے پیتے ہیں اور یہ جوشاندہ امریکہ میں عام ہے۔
گل بابونہ کا جوشاندہ بنانے کے لئے دو چمچ گل بابونہ اور اس میں پانچ پتے پودینہ کے لیکر ایک کپ ابلتا ہواپانی لیکر ان پر ڈال کر چند منٹ کے ڈھک دیں اور بعد میں نتھار کر پی لیں۔ انشا اللہ اسکا ذائقہ بھلا لگے گا۔گل بابونہ کے جوشاندہ پر ہونے والی تحقیقات کے مطابق اسکو روزانہ ایک ہفتہ پینے والوں کا امیون سسٹم مضبوط ہوجاتا اور نروس سسٹم کو طاقت ملتی ہے۔اینٹی ڈپریشن ادویاتا ستعمال کرنے والوں کو یہ جوشاندہ آزمانا چاہئے۔

قدرتی انسولین کا خزانہ ،ایک ایسی جڑی بوٹی جو آپ کے کچن میں موجود ہوتی ہے لیکن آپ اسکی افادیت سے آگاہ نہیں کہ یہ شوگر کی دشمن ہے
طب اسلامی و یونانی میں بابونہ یا گل بابونہ کا کافی استعمال کیا جاتا ہے۔اسکو بابونہ جرمنی بھی کہتے ہیں۔جرمنی میں اس جڑی بوٹی کو ہومیو میڈیسن میں استعمال کیا جاتا ہے ۔گل بابونہ ریاح کو دور کرتا‘ تنفس تیز کرتا اور ایام حیض کو باقاعدہ بناتا ہے۔ محرک آور ہے۔ لہذا بدن میں بننے والی گلٹیوں اور گومڑوں کو تحلیل کرتا ہے۔ بابونہ نظام ہضم کی اصلاح کرتا ہے۔ اس کے کئی طبی استعمال ہیں۔ لیکن بابونہ کے پھولوں کا گرم جوشاندہ تکلیف دہ حیض میں افاقہ بخشتا ہے۔جنہیں نیند کا مسئلہ ہوانہیں گل بابونہ کا کاڑھا پلایا جاتا ہے جو طبی طور پر گہری نیندکی خصوصیات پیدا کرتا ہے لیکن اپنے معالج سے مشورہ کے بغیر ہر گز استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
گل بابونہ چونکہ مسکن ہے ا سلئے ایسے بچے جو ضدی اور چڑچڑے ہوں انہیں بابوبہ کے پھولوں کا جوشاندہ پلایا جاتا ہے جس سے انکی تند خوئی بتدریج ختم ہوجاتی ہے ۔بابونہ میں ایک کیمیائی جزکیمومائل ہوتا ہے جسے جوڑوں کے درد والے مریضوں کے لئے استعمال کرایا جاتا ہے جبکہ شیاٹیکا کے درد میں مبتلا افراد درد کی جگہ پر اسکے پھولوں کا لیپ کرکے سکون پاتے ہیں